پشاور (ڈیلی گرین گوادر) بحریہ ٹاؤن پشاور میں زمین خریدنے میں بے ضابطگیاں کرنے پر ملک ریاض کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ مقدمے میں ملک ریاض حسین، حنا ملک، حامد ریاض اور عامر رشید اعوان کو نامزد کیا گیا پشاور کے تھانہ متھرا میں درج ایف آئی آر کے مطابق بحریہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی علاقے میں غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہیں، بحریہ ٹاؤن نے متعلقہ محکموں سے این او سی لینے میں بے ضابطگیاں کی ہیں۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ہاؤسنگ سوسائٹی نے بغیر این او سی کے متھرا تحصیل میں رہائشی پراجیکٹ کی لانچنگ کی۔ اس عمل سے بحریہ ہاؤسنگ سوسائٹی نے لوگل گورنمنٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔واضح رہے مقدمہ ڈپٹی کمشنر کی ہدایات پر درج کیا گیا ہے جس میں ٹی ایم اے متھرا کو مدعی بنایا گیا ہے۔ شہریوں کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کے لیے تھانہ متھرا میں درخواست دی گئی تھی۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز پر پشاور میں بحریہ ٹاؤن کے رہائشی پراجیکٹس کی لانچنگ کی گئی، جس پر پراپرٹی ڈیلرز اور ایجنٹوں نے عام شہریوں سے اربوں روپے حاصل کیے جبکہ جس علاقے میں بحریہ ٹاؤن کی رہائشی اسکیم ظاہر کی گئی وہ متنازع ملکیتی زمین ہے۔حکومت کی جانب سے لگائے گئے ٹیکسز کے بعد سرمایہ کاروں کا پراپرٹی کی خرید و فروخت کی طرف رجحان کم ہو چکا ہے لیکن اس وقت تمام سرمایہ کاروں کی نظریں بحریہ ٹاؤن پشاور پر مرکوز ہیں مگر اس کے افتتاح کے ساتھ ہی یہ منصوبہ تنازعات کی زد میں آچکا ہے۔
بحریہ ٹاؤن کے لیے منتخب کی گئی زمین کافور ڈھیری پر 2 فریقین میں شدید لڑائی چل رہی ہے، جس کے باعث ضلعی انتظامیہ بحریہ ٹاؤن کو این او سی جاری نہیں کر رہی ہے۔

