اسلام آباد (ڈیلی گرین گوادر) نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکا کےساتھ ملک کر دہشتگردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی ، مثبت اور تعمیری تعلقات ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ان کے ہر معاملے پر اتفاق ہو ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا ملکوں میں مختلف امور پر اتفاق اور اختلاف رہتا ہے، ہم امریکا کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری چاہتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ امریکا کے ساتھ ہر معاملے پر اتفاق ہو،ان کا کہنا تھا پاکستان نے امریکا کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی، ہم نے مل کر عالمی امن کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا، پہلے ہمارے پڑوس میں ایک بڑی سپر پاور روس موجود رہا، امریکا کی قیادت میں مغربی ممالک کا اتحاد بھی ہمارے پڑوس میں رہا، جغرافیائی اعتبار سے عالمی طاقتوں کی پڑوس میں موجودگی کا ہم پر گہرا اثر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی بتاہی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا سے قریبی تعلق ہے۔انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا جمہوریت ہی پارلیمنٹ کی مضبوطی کی ضامن ہے اور جمہوری معاشرے میں ہر فرد کے حقوق کا تحفظ ضروری ہوتا ہے، ریاست اور عوام کے درمیان ایسے سماجی معاعدے پر یقین رکھتے ہیں جہاں حقوق کا تحفظ ہو، ہر ذمہ دار معاشرے کی طرح ہم بھی اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود چاہتے ہیں، پاکستان میں جمہوری عمل کا ارتقا ہو رہا ہے، گزشتہ 15 برسوں میں 3 اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی، حکومت کی تبدیلی آئینی طریقے سے عمل میں آئی اور آئین میں حکومت کی تبدیلی کا طریقہ کار موجود ہے۔
ضروری نہیں کہ امریکا کےساتھ ہر معاملے پر اتفاق ہو : نگران وزیر اعظم انوار الحق

ٹیگز:
انوار الحق
