کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان عوامی پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سنیئر صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے سی سی آئی میں ضلع زیارت، ہرنائی سمیت بلوچستان کی آبادی کو کم کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے کہا کہ ڈیجیٹل مردم شماری کے ابتدائی نتائج کے مطابق بلوچستان کی آبادی 2 کروڑ15 لاکھ 9 ہزار بتائی گئی تھی، مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بلوچستان کی 67 لاکھ آبادی کو کم ظاہر کر کے منظوری دی گئی ہے اس طرح ہمارے صوبائی حلقہ انتخاب میں شامل دونوں اضلاع ضلع زیارت و ضلع ہرنائی کی آبادی کو کم ظاہر کرکے دونوں اضلاع کے عوام کے ساتھ انتہائی ظلم و زیادتی کی گئی ہے آبادی کم ظاہر کرنے سے دونوں اضلاع کے عوام کو آئینی حقوق سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں کہاکہ حالیہ ساتویں ڈیجٹیل مردم شماری میں دونوں اضلاع کی جو آبادی شمار کی گئی تھی اس آبادی سے دونوں اضلاع کے سابقہ صوبائی حلقہ انتخاب صوبائی بحال ہوجاتے تھے لیکن سی سی آئی اجلاس میں زیارت، ہرنائی کی جو آبادی ظاہر کی گئی ہے اس یکسر مستردکرتا ہوں اور سی سی آئی کے مذکورہ فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرونگا حلقہ انتخاب کے دونوں اضلاع زیارت و ہرنائی کے عوام کے آئینی حقوق اور ترقی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرونگا سنیئر صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پہلی مرتبہ ایسی مردم شماری ہوئی جو تمام سیاسی جماعتوں عوام اور قبائل کے لئے قابل قبول تھی، انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی آبادی کو بنیاد بنا کر وسائل کی تقسیم اور ایوانوں میں نمائندگی پر نا انصافی کی جاتی رہی ہے اور2018 کے عام انتخاب میں پشتون بیلٹ کے تین صوبائی حلقوں کو ختم کرکے دیگر اضلاع میں ضم کردیا گیا تھا جس کے خلاف عوام اور سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا الیکشن کمیشن اور عدالت میں چلینج کیا گیا لیکن جواز یہ بنایاگیا کہ مذکورہ اضلاع کی آبادی کم ہے اس لئے صوبائی حلقے ختم کرکے دیگر اضلاع کے صوبائی حلقوں میں ضم کردیاگیا تھا لیکن حالیہ یجیٹل مردم شماری میں زیارت،ہرنائی، شیرانی، موسیٰ خیل سمیت بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے بھرپور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تھا، افسوس کہ سی سی آئی کے اجلاس میں مردم شماری کے نتائج ہی مسترد کردیے گئے جوکہ انتہائی افسوسناک عمل ہے انہوں نے کہا کہ یہ عمل ضلع زیارت، ہرنائی سمیت بلوچستان کی گردن پر چھری پھیرنے کے مترادف ہے، سی سی آئی کے اقدام کے خلاف ہرفورم پربھرپور آواز بلند کرونگا انہوں نے کہاکہ اس طرح کا فیصلہ ضلع زیارت و ہرنائی سمیت بلوچستان کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے، مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کو مکمل طورپر مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کیا جائے گاانہوں نے کہاکہ زیارت و ہرنائی کی آبادی میں کمی کر کے ناانصافی کی گئی ہے جس پر ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ ضلع زیارت اور ہرنائی سمیت بلوچستان کے عوام کے لئے کسی صورت قابل قبول نہیں ہے، ڈیجیٹل مردم شماری میں کمی کیسے ممکن ہو سکتی ہے
زیارت و ہرنائی کی آبادی میں کمی کرکے ناانصافی کی گئی ہے، حاجی نورمحمد خان دمڑ

ٹیگز:
حاجی نورمحمد خان دمڑ
