کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان مالیاتی مسودہ قانون 2023منظور کرلیا جبکہ مالی سال 2023-24 کے سالانہ اور مالی سال 2022-23کے ضمنی اخراجات کے منظور شدھ گوشوارے ایوان کی میز پر رکھ دئیے گئے، جمعیت علماء اسلام کے رکن مولانا نور اللہ کا اجلاس سے واک آؤٹ۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل کو ڈیڑھ گھنٹے کے تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل کے زیر صدارت شروع ہوا۔صوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے بلوچستان مالیاتی مسودہ قانون2023ایوان میں پیش کیا جسے ایوان منظور کرلیا۔ بعدازاں وزیر خزانہ نے مالی سال 2023-24کے سالانہ اور مالی سال 2022-23کے ضمنی منظور شدھ مصدقہ گوشوارے ایوان کی میز پر رکھے۔انہوں نے صوبائی وزیر خزانہ کو تجویز دی کہ وہ پی ایس ڈی پی میں یکم جولائی سے ترقیاتی عمل شروع کریں تاکہ ٹینڈر وغیرہ ہو اور صوبے میں جو 7سے 8مہینے کا ترقیاتی عمل رک جاتا ہے اس پر فوری طور پر عملدرآمد شروع ہو تاکہ بلوچستان بھی دیگر صوبوں کے برابر ترقی کرسکے اسمبلی۔جلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے رکن میر یونس زہری نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں بجلی ٹرانسمیشن کیلئے 4کروڑ کی بجائے 2کروڑ جاری کرنے سے نہ وہ ٹرانسمیشن لائن مکمل ہوتی ہے لہٰذا وزیر خزانہ کو میری تجویز ہے کہ وہ باقی مدعات سے رقم نکا ل کر بجلی کیلئے 4کروڑ روپے جاری کریں تاکہ یہ منصوبے بروقت مکمل ہوسکیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی و پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئر مین اختر حسین لانگو نے کہا کہ میں بہترین بجٹ پر وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ کو مبارکباد دیتا ہوں میں بھی یونس زہری کی تجویز سے اتفاق کرتا ہوں کہ اسپورٹس،کیسکو اور صحت کے حوالے سے اسکیمات کیلئے 100فیصد فنڈز جاری کئے جائیں تاکہ یہ منصوبے بروقت مکمل کئے جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو اور چیف سیکرٹری بلوچستان بھی موجود ہیں صوبے میں امن وامان کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی بجائے یہ رقم ترقیاتی مد میں خرچ کی جائے صوبے میں امن وامان پہلے ہی موجود نہیں ہر جگہ ریاست مسلح جتھوں کے ذریعے امن وامان خراب کررہے ہیں ایف سی اور دیگر اداروں کو اربوں روپے مختص کرنا غریب صوبے کیساتھ زیادتی کے مترادف ہے حکومت تعلیم،صحت،پینے کی صاف پانی کیلئے 60ارب روپے جو امن وامان کیلئے رکھے ہیں وہ ان ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کئے جائیں کیونکہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں مسلح جتھے موجود ہیں ریاست خود ان مسلح جتھوں کو فنڈز جاری کر کے ان کی حوصلہ افزائی کررہی ہے تاکہ صوبے کے امن وامان کو خراب کیا جاسکے۔رکن صوبائی اسمبلی سردار یار محمد رند نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالت میں نا مساعد حالات کے باوجود بہترین بجٹ پیش کرنے پر حکومت وزیر خزانہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل بولان میں جو سیلاب آیا اس کے بحالی کیلئے ایک ارب روپے بھی خرچ نہیں ہوا اب دوبارہ تمام محکموں کو سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت نے مون سون کے دوران ہائی الرٹ جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن وامان کیلئے 60ارب روپے بجٹ میں مختص کی ہیں اللہ پاک نے ابھی تک میری موت نہیں لکھی ہے ایک جج کے پاس 4سیکورٹی گارڈز موجود ہیں لیکن اراکین اسمبلی کے پاس یہ سہولت موجود نہیں لوگوں کی کوشش ہے کہ مجھے قتل کیا جائے لیکن اللہ نے ابھی تک میری حفاظت کی ہے انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن بھی خونی ہونگے میرے حلقہ انتخاب میں جس طرح غیر منتخب لوگوں کو ترقیاتی فنڈز جاری کئے جارہے ہیں میں اس کی مذمت کرتا ہوں امن وامان کو درست بنانے والے خود ہی حالات خراب کریں تو کس سے گلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی زندگی کی حفاظت کی بھیک کسی سے نہیں مانگو ں گا۔جمعیت علماء اسلام کے رکن میر ذابد ریکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولوی نور اللہ نے وزیراعلیٰ پر جس طرتنقید کی میں اس کی مذمت کرتا ہوں وزیراعلیٰ بلوچستان دن میں ہو یا رات میں تمام اراکین اسمبلی سے ملاقات کرتے ہیں واشک کیلئے ترقیاتی فنڈز کے اجراء پر وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر خزانہ کو مبارکباد دیتا ہوں انہوں نے کہا کہ اگر میر عبدالقدوس بزنجو چار سال قبل وزیراعلیٰ بنتے تو آج بلوچستان کے حالات مختلف ہوتے۔وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہترین بجٹ پر وزیراعلیٰ بلوچستان،وزیر خزانہ انجینئر زمرک خان ا چکزئی،چیف سیکرٹری بلوچستان کو مبارکباد دیتا ہوں اراکین اسمبلی نے امن وامان کے حوالے سے بات کی بین الاقوامی دہشتگردی کی وجہ سے ا ب تک 70ہزار شہری اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہوچکے ہیں ہم دہشتگردی کی جنگ لڑ رہے ہیں ملک کی بقاء اور حفاظت کیلئے سیکورٹی فورسز کے قربانیوں سے کوئی انکار نہیں کرسکتا دنیا کے کسی کونے میں سو فیصد امن وامان قائم نہیں ہوا ہے چاہیے امریکہ ہو یایور پ ہم نے سب نے سیکورٹی فورسز کیساتھ ملکر امن وامان کے قیام کیلئے اپنا کردارادا کرنا ہے۔ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل نے کہا کہ میں بہترین بجٹ پیش کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان،صوبائی وزیر خزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی،چیف سیکرٹری بلوچستان اور ان کے اسٹاف کو مبارکباد دیتا ہوں کہ جنہوں نے بہترین بجٹ پیش کیا تاہم میں اراکین اسمبلی کے تجویز سے اتفاق کرتا ہوں کہ یکم جولائی سے پی ایس ڈی پی پر عملدرآمد اور ٹینڈرنگ پر عملدرآمد شروع کیا جائے تا کہ ترقیاتی فنڈز بروقت شروع ہو صوبے میں ترقیاتی عمل مکمل ہوسکے انہوں نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ صوبے میں جتنی بھی آسامیوں پر بھرتی کا عمل جاری ہے ان پر میرٹ پر عملدرآمد کیا جائے اور جو باقی رہ گئی ہیں عید کے فوراً بعد ان پر میرٹ کی بنیاد پر تعیناتیاں کی جائیں تاکہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار مل سکے۔پارلیمانی سیکرٹری بشریٰ رند نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہترین بجٹ پر وزیراعلیٰ بلوچستان،وزیر خزانہ اور ان کے اسٹاف کو مبارکباد دیتا ہوں امید کرتی ہوں کہ بجٹ جو پیش کیا جائے وہ قابل تحسین ہے۔صوبائی وزیر خزانہ زمرک خان اچکزئی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کا پیغام اراکین اسمبلی تک پہنچا رہا ہوں وزیراعلیٰ نے تمام ایوان،حکومتی اور اپوزیشن اراکین کا شکریہ ادا کیا ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے بھی میں تمام ایوان کاشکر گزار ہوں جنہوں نے بجٹ سیشن میں مکمل تعاون کیا ہم نے کوشش کی کہ اراکین اسمبلی کے تجاویز پر بھی مکمل عملدرآمد ہو تاکہ صوبے کے عوام کو بہترین بجٹ پیش کیا انہوں نے کہا کہ اگلے نئے سال کیلئے بھی آسامیاں رکھی ہیں تمام آسامیوں پر میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں ہونگی تاکہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار ملے ہمارے دو مہینے باقی ہیں انشاء اللہ جو لائی میں بھی اسپیکر سے اپیل ہے کہ اجلاس بلائیں جس میں ہم الیکشن سے قبل الوداعی شرکت کریں مولوی نور اللہ اور زینت بلوچ کے تحفظات کو بھی دور کرینگے جس پر ڈپٹی اسپیکر نے گورنر بلوچستان کا حکمنامہ پڑھ کر اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا۔
بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان مالیاتی مسودہ قانون 2023 منظور کرلیا

ٹیگز:
اسمبلی
