اسلام آباد (ڈیلی گرین گوادر) سپریم کورٹ نے وزارت خزانہ کو ہر صورت الیکشن کمیشن کو فنڈز فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے رقم جاری کرنے کے بعد جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔تفصیل کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پنجاب انتخابات کے لئے فنڈز کی عدم فراہمی کے کیس کی ان چیمبر سماعت کی۔ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بینچ میں شامل تھے۔ اٹارنی جنرل، سیکرٹری الیکشن کمیشن، وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک حکام چیمبر میں پیش ہوئے۔
اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم پر عملدرآمد کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے حکم پر فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈز سے رقم کے حصول کیلئے بل پارلیمنٹ میں پیش کیا۔ پارلیمنٹ نے انتخابات کیلئے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈز کے اجراء کے بل کو مسترد کیا۔ پارلیمنٹ سے بل مسترد ہونے کے بعد وفاقی حکومت اسٹیٹ بینک کو فنڈز کے اجراء کا نہیں کہہ سکتی۔ الیکشن کمیشن نےبھی ریکارڈعدالت میں جمع کرایا۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا کام بیک اینڈ پر سپورٹ کرنا تھا۔ ہماری پوزیشن وہی ہے کہ 21 ارب روپے کے فنڈ چاہیے، ہمارا کوئی موقف نہیں، ہم نے تو پیسے لینے ہیں، الیکشن کمیشن پر کوئی دباؤ نہیں ہے، مردم شماری ہو جائے گی تو حلقہ بندیاں بھی ہو جائیں گی، بڑے اچھے ماحول میں آج بات چیت ہوئی۔
صحافیوں کے سوال کیا حکومت توہین عدالت کا سامنا کرے گی؟ پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کابینہ سے قانون پاس کروایا ہے، فنڈز کے معاملے پر حکومتی موقف سے عدالت کو آگاہ کیا، پارلیمنٹ نے فنڈز دینے کی اجازت نہیں دی ، دیگر اداروں نے تمام صورتحال سے آگاہ کیا، فیڈرل کونسولیڈیٹڈ فنڈز سے قومی اسمبلی کی منظوری سے ہی پیسہ جاری ہوتا ہے، حکومت کو بھی ہدایات جاری کرنے کے لئے قومی اسمبلی کی منظوری درکار ہوتی ہے۔

