کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد جنرل سیکریٹری حاجی بشیر احمد کاکڑ مولانا محمد ہاشم خیشکی مولانا محمد ایوب حافظ مسعود احمد سیکرٹری اطلاعات عبدالغنی شہزاد سیکرٹری مالیات میرسرفراز شاہوانی ایڈووکیٹ سالار حافظ سید سعداللہ آغا حاجی ولی محمدبڑیچ حاجی ظفر اللہ خان کاکڑ حافظ مجیب الرحمٰن ملاخیل چوہدری محمد عاطف میر فاروق لانگو مولانا محمد عارف شمشیر ملک نصیر احمد ایڈووکیٹ حافظ سردارمحمدنورزئی مفتی محمد ابوبکر حافظ رحمان گل حافظ دوست محمد اور دیگر نے کہا کہ شاعر مشرق کا خواب اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا، بعض حکمرانوں نے اپنی کرسی کو مظبوط کرنے کے لیے اسلام کا مقدس نام استعمال کیا، ریاست مدینہ کے نام پر قادیانیوں کو کھلی چھوٹ دیدی گئی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سازشوں کا جال بچھایا گیا،انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے روز اول سے تاریخ ساز جدوجہد کرتے ہوئے قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کرتے چلے آئی ہے،پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ علامہ کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانے ہوئے وطن عزیز پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ میں قانون سازی کریں، اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں حائل مغربی این جی اوز کو لگام دیں،انہوں نے کہا کہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے 1937 ء میں قائد اعظم کو لکھے گئے ایک خط میں تحریر کیا”اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جدوجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظت اسلام اس جد و جہد کا مقصد نہیں تو مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔“ علامہ کا یہ خط نظریہ پاکستان کی اساس و بنیاد ہے،جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے رہنماؤں نے کہا کہ علامہ اقبال کی جاگتی آنکھیں امت کی نشا ثانیہ کا خواب دیکھتی تھیں۔ علامہ اقبال نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا وہ درحقیقت ایک اسلامی ریاست کے قیام اور امت مسلمہ کی خودی کا خواب تھا، جس کا اظہار انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے، وہ چاہتے تھے کہ اس ریاست میں اسلامی قانون کی بالادستی قائم رہے۔مگر پاکستان کے قیام کے بعد بہت سی پارٹیوں نے اپنے منشور کی پہلی شقوں میں اسلامی شریعت و قانون کی بالادستی کو قرار دیا مگر وہ اپنے منشور سے پھر گئے اور شریعت پر عمل نہ ہو سکا، اسلامی قانون کے نفاذ کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل قائم کی گئی جس نے سفارشات مرتب کر کے حکومت پاکستان کو بھیج دیں مگر ان پر بھی عمل نہ ہورہا، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کا پرزور مطالبہ کرنی والی جماعت پاکستان جمعیت علماء اسلام ہے، انہوں نے کہا کہ دور حاضر کی ضرورت ہے کہ علامہ کے خواب کو تکمیل تک پہنچا نے کے لئے پاکستان میں اسلامی قوانین کا نفاذ کیا جائے۔
بعض حکمرانوں نے اپنی کرسی کو مظبوط کرنے کے لئے اسلام کا مقدس نام استعمال کیا، مولانا عبد الرحمن رفیق

ٹیگز:
مولانا عبد الرحمن رفیق
