لاہور (ڈیلی گرین گوادر)سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (کیس)، لاہور نے “انسانی سرمایہ خطرے میں: تعلیم، ریاستی صلاحیت اور پاکستان کا ترقیاتی چیلنج” کے عنوان سے ایک گول میز مباحثے کا انعقاد کیا۔ ایک آزاد تھنک ٹینک کے طور پر کیس لاہور باقاعدگی سے ایسی علمی نشستوں کا اہتمام کرتا ہے جن میں اہل علم، ماہرینِ اور پالیسی ساز علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے اہم امور پر تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ تقریب میں ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور متعلقہ شعبوں کے اہلِ دانش نے شرکت کی۔ کیس لاہور کی ریسرچ اسسٹنٹ محترمہ فائزہ عابد نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔لمز اسکول آف ایجوکیشن کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صوفیہ انیس صدیقی نے پاکستان کے تعلیمی بحران کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد ۲۵ سے ۲۶ ملین ہے، ہیومن کیپیٹل انڈیکس صفر اعشاریہ چار ہے، اور تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف صفر اعشاریہ آٹھ فیصد خرچ کیا جاتا ہے، جبکہ سیکھنے کے عمل میں بھی گہری کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ صرف رسائی اور تعلیمی نتائج تک محدود نہیں، بلکہ اس بات سے بھی جڑا ہے کہ خود تعلیم کو کس طرح سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے انسانی سرمایہ کے تصور پر محدود فوکس اور اس کے محدود سماجی مقصد پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے اساتذہ اور فنی و پیشہ ورانہ راستوں کی ناقدری کی نشاندہی کی، نیز ابلاغ، موافقت پذیری اور ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے تعلیم کا ایک وسیع تر تصور اپنانے پر زور دیا جو پاکستان کی آبادیاتی ساخت اور اس کی سماجی، معاشی اور تکنیکی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔چیف ایگزیکٹو ایڈوائزر سکول ایجوکیشن اینڈ لیٹریسی ڈیپارٹمنٹ، حکومتِ سندھ ڈاکٹر فوزیہ خان نے پاکستان کی طویل المدتی انسانی سرمایہ سازی میں مؤثر تعلیمی نظم و نسق کے مرکزی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے انسانی سرمایہ کی ترقی کو تعلیم کے ایک مسلسل سلسلے سے تعبیر کیا جو چار باہم مربوط مراحل پر مشتمل ہے جس میں داخلہ، تسلسل، پیش رفت اور سیکھنا شامل ہیں۔ ڈاکٹر خان نے ایسے طرزِ عمل پر زور دیا جس کی بنیاد مؤثر منصوبہ بندی، اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی، اساتذہ کے پیشہ ورانہ انتظام، مناسب وسائل اور کمیونٹی کی بامعنی شمولیت پر ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اصلاحاتی اقدامات کو پائیدار حکومتی ڈھانچوں، شواہد پر مبنی نفاذ اور مربوط شراکت داریوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے، تاکہ بچوں کو وہ علم حاصل کرنے کے زیادہ مواقع میسر آئیں جو پاکستان کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے درکار ہے۔اختتامی کلمات میں کیس لاہور کے صدر ایئر مارشل عاصم سلیمان (ریٹائرڈ) نے تعلیم کو پاکستان کے انسانی سرمایہ، سماجی ترقی اور معاشی مستقبل کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام کی ترقی کا انحصار محض رسائی بڑھانے پر نہیں، بلکہ سیکھنے کے معیار کو بہتر بنانے اور اس عمل کو انجام دینے والے اداروں کو مضبوط کرنے پر بھی ہے۔ انہوں نے بالخصوص صنف، جغرافیے اور آمدنی کی بنیاد پر رسائی اور نتائج میں پائی جانے والی دیرینہ عدم مساوات کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا، اور تعلیم کو مہارتوں، روزگار، سماجی تحفظ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ جوڑنے کی بات کی۔ مستقبل کے لیے انہوں نے تعلیمی نتائج کی بہتری، تعلیمی سرمایہ کاری کو نتائج میں ڈھالنے، اور تعلیم کو ایک وسیع تر طویل المدتی انسانی سرمایہ حکمتِ عملی سے ہم آہنگ کرنے پر مبنی تین ترجیحات پیش کیں جس کی پشت پر پالیسی کا تسلسل اور اداروں کا مستقل عزم ہو۔تقریب کا اختتام ایک جاندار سوال و جواب کی نشست پر ہوا، جس میں اساتذہ کی تربیت، ہوم اسکولنگ، تعلیمی معیار، اور پاکستان کے تعلیمی چیلنجز سے جڑے ڈھانچہ جاتی اور مالی مسائل پر گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے ایک دل چسپ اور فکر انگیز مباحثے کے انعقاد پر کیس لاہور کی کاوش کو سراہا۔
“انسانی سرمایہ خطرے میں: تعلیم، ریاستی صلاحیت اور پاکستان کا ترقیاتی چیلنج” کے عنوان سے ایک گول میز مباحثے کا انعقاد

ٹیگز:
سینٹر فار ایرو اسپیس
