کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو ہٹا کر کوئی سیاسی جماعت اقتدار میں آئی تو یہ اسکی سیاسی موت ہوگی، ٹی بی سے مرنے والے اور محاذ پر مرنے والے کی شہادت میں فرق ہے حکومت کو سیاسی شہید نہیں ہونے دیں گے، سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کے لئے انقلاب لانا ہوگا اگر انڈر دی ٹیبل ڈیل کی گئی تو ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کی بات گناہ تصور کیا جائیگا، لانگ مارچ کی تاخیر حوالے سے مجبوریاں تھیں موسم کی وجہ سے بھی لانگ مارچ کی تاریخ دیر سے رکھی گئی ہے ہم نے اتنی بھی دیر نہیں کی اب بھی وقت ہے اگر اس بار بھی تاخیر کی گئی تو ہم پیچھے رہ جائیں گیاگر پیپلز پارٹی ہماری جدوجہد میں نہیں آتی تو وہ تنہا رہ جائیگی،پی ڈی ایم میں اپنے مقاصد سے ہٹ کر جب فیصلے کئے اس سے ہماری راہیں جدا ہوئیں، گوادر سمیت پورے پاکستان کے لوگ حقوق سے محروم ہیں، گوادردھرنے کے شرکاء کے مطالبات حل طلب ہیں مظاہرین کا کوئی مطالبہ آئین کے دائرے سے باہر نہیں ہے لیکن حکمرانوں کی نیت صاف نہیں ہے وہ ان مسائل کو حل نہیں کرنا چاہتے۔یہ بات انہوں نے منگل کی شب نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہی۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ گوادر اور بلوچستان سمیت پورا پاکستان اپنے حقوق سے محروم ہے ماضی میں جب گوادر پورٹ بنا تو ہم نے تب بھی سوال اٹھایا کہ اس سے مقامی آبادی کو فائدہ ہوگا یا نہیں جب سی پیک کی بنیاد رکھی گئی اس وقت بھی آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی اور سوال کیا گیا کہ اتنی بڑی سرمایہ کار ی سے مقامی لوگوں کو کیا فائدہ پہنچے گا آج گوادر کے لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے وہاں لوگوں کاروزگار ماہی گیری اور بارڈر ٹریڈ ہے لیکن موجودہ دور میں ماہی گیری کے لئے جانے کے لئے لوگوں کو اجازت لینے پڑ رہی ہے جسکی وجہ سے عام ماہی گیر ایک مہینے میں ایک بار ہی سمندر تک رسائی حاصل کر پاتا ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے لوگ صدیوں سے ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کر رہے ہیں بارڈر سیل کردیا گیا ہے جسکی وجہ سے لوگ جائیں تو کہاں جائیں انہوں نے کہا کہ گوادر احتجاج میں اس وقت بڑی قوم پرست جماعتیں پیچھے ہیں لیکن اسکی ابتداء آل پارٹیز کانفرنس میں کی گئی تھی جس میں گوادر کی تمام سیاسی جماعتیں شامل تھیں سیاسی جماعتیں کوئی بھی ہوں لیکن گوادر کے عوام کے مسائل مشترکہ ہیں اور گوادر دھرنے میں تمام سیاسی جماعتوں کی مقامی قیادت موجود ہے ہماری جماعت کے لوگ روزاول سے وہاں موجود ہیں البتہ قیادت اب تک وہاں پہنچ نہیں پائی انہوں نے کہا کہ گوادر میں باڑ لگانے، بارڈر ٹریڈ کے مسئلے پر بی این پی نے اسمبلی میں آواز اٹھائی اور ہائی کورٹ گئے اور فیصلہ بھی لیا گوادر کے مطالبات حل طلب ہیں مظاہرین کا کوئی مطالبہ آئین کے دائرے سے باہر نہیں ہے لیکن حکمرانوں کی نیت صاف نہیں ہے وہ ان مسائل کو حل نہیں کرنا چاہتے یہی وجہ ہے اب سیاسی جماعتوں کے دائرے سے مسائل نکل کر عوام کے ہاتھ میں آگئے ہیں اور یہ معاملہ انقلاب کی شکل اختیار کرجائیگا،انہوں نے کہا کہ جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کی بجائے اگر لاٹھی اور گولی دی جائیگی تو شاید لوگ آئین و قانون کو نہیں مانیں گے ہمارے حکمران کمزور کے سامنے اپنا غصہ دیکھاتے ہیں اورطاقت ور کے سامنے سر خم کر دیتے ہیں ملک کے اندرجب حکمرانوں سے کوئی زیادہ طاقتور ہوا تو ان سے نہ صرف مذاکرات کئے گئے بلکہ انکے مطالبات تسلیم کئے گئے لیکن کمزور کو لاٹھی اور گولی کا نشانہ بنایا گیا لوگوں کو اس طرف لیکر جایا جارہا ہے جو وہ نہیں چاہتے گوادر کے لوگ پر امن تھے لیکن صبر کی انتہا ہوتی ہے جب کسی علاقے یا سیاسی جماعت کو اس حد تک دیوار سے لگایا جائے کہ مزید گنجائش نہ ہو تو وہ آگے آئیں گے اور اس میں تصادم ہوگا انہوں نے کہا کہ گوادر کے ماہی گیروں یا بارڈر ٹریڈ کرنے والوں میں کوئی سردار نہیں ہے اگر سردار وں کا حساب کیا جائے تو جنرل مشرف نے کہا کہ 73سردار انکے ساتھ ہیں صرف تین نہیں ہیں اب تو وہ تین سردار بھی نہیں رہے تو اب بلوچستان کا مسئلہ حل کیوں نہیں ہورہا لوگوں کو ورغلانے کے لئے ہمیشہ پروپگینڈا کیا جارہا ہے پورا بلوچستان بشمول منتخب نمائندوں اور سرداروں،نوابوں کے وہ انکے ساتھ رہے ہیں لیکن خاران، لسبیلہ، نصیر آباد، جھل مگسی، سبی،بھاگ دیکھا جائے تو یہ علاقے آج بھی پسماندہ اور وہاں کے لوگ اور جانور آج بھی ایک ہی جوہڑ سے پانی پیتے ہیں،انہوں نے کہا کہ جب ہم پی ڈی ایم کا حصہ بنے تو واضح کیا کہ ہماری ترجیح حکومت گرانا نہیں بلکہ جمہوری نظام کی بحالی اور اداروں کی عدم مداخلت کے لئے انکا ساتھ دینے کو تیار ہیں حکومت گرانے کی باتیں ہوتی رہیں کوشش کی گئی کہ چیئر مین سینیٹ، صوبوں میں عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے لیکن یہ پی ڈی ایم تحریک کا حصہ نہیں تھے جس مقصد کے لئے پی ڈی ایم بنی ابھی تک ہم اس مقصد کے حصول میں پانچ فیصد بھی کامیاب نہیں ہوئے ان اداروں اور قوتوں جن سے جمہوریت کو خطرہ ہے ہم انکے سامنے دیوار نہیں بنے البتہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں میں آپسی پالیسیوں اور اس وقت فیصلہ نہ کرنے کی وجہ سے انتشار پیدا ہوا اور پارٹیاں الگ ہوئیں پیپلز پارٹی کی علیحدیگی چیئر مین سینیٹ اور اپوزیشن لیڈر کے مسئلے پر ہوئی تھی اگر پیپلز پارٹی علیحدہ نہ ہوتی تو پی ڈی ایم آج کسی اور جگہ پر کھڑ ی ہوتی ہم نے اپنے مقاصد سے ہٹ کر جب فیصلے کئے اس سے ہماری راہیں جدا ہوئیں انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کے معاملے پر پی ڈی ایم کی جماعتیں متفقہ رائے سے فیصلہ کرکے تحریک عدم اعتماد لائی تھیں یہ مسئلہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں زیر بحث آیا تھا لیکن چیئرمین سینیٹ کا فیصلہ متفقہ رائے سے ہوا البتہ اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ اتفاق سے نہیں ہوا اور اختلافات بڑھ گئے انہوں نے کہا کہ ملک کی بد قسمتی رہی ہے کہ ٹیبل کے نیچے ڈیل کی گئی لیکن اگر اس بار پھر کوئی ہم آہنگی پیدا کرکے جمہوریت کو پس پردہ ڈال کر اقتدار کو ترجیح دی گئی تو اس سے بڑی بد قسمتی نہیں ہوگی اور اسکی ذمہ داری سیاسی جماعتیں ہونگی ایسا کرنے کے بعد جمہوریت یا جمہوری اداروں کی مضبوطی کا دعویٰ کرنا گناہ تصور کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ ان ہاؤس چینج ان بیساکھیوں پر لایا گیا جن پر پی ٹی آئی کھڑی ہے تو پھر یہ مصنوعی تبدیلی ہوگی اگر پی ٹی آئی یا عمران خان کی جگہ کوئی لینا چاہتا ہے تو بی این پی اسکا حصہ نہیں ہوگی جب تک سسٹم کو تبدیل نہیں کیا جائیگا مصنوعی تبدیلی سے کسی کو اقتدار، جھنڈا مل جائیگا لیکن وہ ڈنڈا جو جمہوری اداروں کو لگتا آرہا ہے وہ قائم رہے گا انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی جمہوری نظام لانے کے لئے موجودہ نظام کو تبدیل کرنا ہوگا جمہوریت کٹھ پتلی کی طرح نہیں ناچتی سیاسی جماعتوں میں حقیقی جمہوریت کے جراثیم نظر نہیں آتے جب تک حقیقی انقلاب برپا نہیں کیا جا تا،میڈیا،عدلیہ آزاد نہیں ہوتے، مداخلت بند نہیں ہوتی اس وقت تک حقیقی جمہوریت قائم نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے ڈیڑھ سال اسی انداز میں گزارے تو پھر یہی معاملہ ہوگا اور سیاسی جماعتیں اس دوڑ میں ہیں کہ جگہ خالی ہو اور مجھے ملے اس طرح تبدیلی نہیں آئیگی انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت چاہے جہاں بھی ہوں وہ انقلاب لاسکتی ہیں ہمیں چار قدم آگے چلنا ہوگا ہمیں نقصانات اٹھانے ہونگے اور ان نقصانات کے بدلے ہم اپنی منزل پر پہنچیں گے ملک میں سیاسی جماعتوں کو سیاست کرنی ہے تو انہیں قدم اٹھانا ہوگااور اگر انہوں نے غلامی اور کاروبار کرنے ہیں تو جو وہ کر رہے تھے وہی کرنا چاہیے انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کی تاخیر حوالے سے مجبوریاں تھیں لانگ مارچ اس طرف کرنا ہے جہاں اسکا اثر ہو موسم کی وجہ سے بھی لانگ مارچ کی تاریخ دیر سے رکھی گئی ہے ہم نے اتنی بھی دیر نہیں کی اب بھی وقت ہے اگر اس بار بھی تاخیر کی گئی تو ہم پیچھے رہ جائیں گے لانگ مارچ میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے اگر پیپلز پارٹی ہماری جدوجہد میں نہیں آتی تو وہ تنہا رہ جائیگی اور انکے ورکر بھی ہماری جدوجہد میں شامل ہونگے انہوں نے کہا کہ سیاسی شہادت کے بھی طریقے ہیں کوئی سڑک حادثے میں مرے یا ٹی بی سے مرے اسے شہید کیا جاتا ہے ٹی بی سے مرنے والے اور محاذ پر مرنے والے کی شہادت میں فرق ہے انہوں نے کہا کہ معاشی صورتحال کو سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں ہے کوئی بھی سیاسی جماعت اگر موجودہ حکومت کو ہٹا کر اقتدار میں آئی تو وہ اسکی سیاسی موت ہوگی۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ انسانیت کے ناطے دیکھا جائے تو لاپتہ افرادکا مسئلہ سنگین ہے لاپتہ افراد کے ساتھ ساتھ انکے ورثاء بھی دکھ درد اور خوف سے زندگی گزارتے ہیں حکومت کو 5128لاپتہ افراد کی فہرست دی جن میں سے صرف ساڑھے چار سو لوگ بازیاب ہوئے جبکہ 1500مزید افراد اٹھا لئے گئے کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ان افراد کو چھوڑا جائے اب بلوچستان میں سی ٹی ڈی کے ذریعے جعلی مقابلوں میں 19،19افراد مارے جارہے ہیں یہ کیسا مقابلہ ہے جس میں گاڑی کا ایک شیشہ بھی نہیں ٹوٹا اور بھاری ہتھیار بھی برآمد کئے گئے انہوں نے کہا کہ بڑی سیاسی جماعتیں لاپتہ افراد کے مسئلے کو ترجیح نہیں دیتیں چھوٹے صوبے نہ کسی کو اقدار میں لا سکتے نہ نکال سکتے ہیں بڑی سیاسی جماعتیں ووٹ حاصل کرنے پر توجہ دیتی ہیں آج گوادر کے دھرنے میں اگر لاپتہ افراد کا مطالبہ شامل ہوا ہے تو یا لارے لپے سے احتجاج ختم کردیا جائیگا یا پھر ان پر طاقت کا استعمال کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کا براہ راست اثر بلوچستان پر پڑا ہے افغانستان کے حالات کی بہتری اور ابتری کے حالات بلوچستان پر پڑتے ہیں لیکن اسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے جس کے اثرات آج دن تک لوگ بھگت رہے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سابق وزیراعلیٰ نے اپنے ٹؤیٹ میں جن دھرنوں کا زکر کیا ہے وہ دھرنے انکی اپنی حکومت کے دوران شروع ہوئے جبکہ موجودہ صوبائی حکومت کو بنے صرف ایک ماہ اور چند دن ہوئے ہیں،صوبائی وزیر مواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران
کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان صوبائی وزیر مواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران نے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے ٹؤیٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ نے اپنے ٹؤیٹ میں جن دھرنوں کا زکر کیا ہے وہ دھرنے انکی اپنی حکومت کے دوران شروع ہوئے جبکہ موجودہ صوبائی حکومت کو بنے صرف ایک ماہ اور چند دن ہوئے ہیں ترجمان نے کہا ہے کہ گوادر دھرنا اس سال جولائی سے جاری ہے علاوہ ازیں سابق وزیراعلی نے خود اعتراف کیا ہے کہ ڈاکٹر دو ماہ سے احتجاج پر ہیں ترجمان کا کہنا ہے کہ اخلاقی طور پر انہیں زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی حکومت کی کوتاہیوں کو موجودہ حکومت کے کھاتے میں ڈالیں ترجمان نے کہا کہ سابقہ دور بادشاہت میں ہمیشہ مظاہرین اور پولیس کو آمنے سامنے کیا گیاسابق وزیراعلی کے حکم پر ڈاکٹروں پر تشدد کیاگیا جسکی مثال ماضی میں نہیں ملتی ترجمان نے کہا ہے کہ درحقیقت جام کمال خان ابھی تک اپنی وزارت اعلی کھونے کو ہضم نہیں کر سکے ہیں ترجمان نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام بند ہونے کے حوالے سے جام کمال خان کے بیان میں صداقت نہیں ہے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے حکومت کی تبدیلی کے مراحل میں بند کی گئی ترقیاتی فنڈز کے اجراء کی منظوری دے دی ہے ترجمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت دوریوں پر نہیں نزدیکیوں پر اور توڑنے پر نہیں جوڑنے پر یقین رکھتی ہے گوادر دھرنے والوں سے مذکرات جاری ہیں اور جلد بریک تھرو ملے گاجبکہ ڈاکٹروں کے ساتھ صوبائی وزیر صحت ایک اعلی اختیاراتی کمیٹی کے زریعہ مزاکرات کر رہے ہیں اور بہادر خان وویمن یونیورسٹی کی طالبات کا احتجاج گزشتہ روز باہمی گفت و شنید کے زریعہ ختم ہو چکا ہیترجمان نے کہا ہے وہ جام کمال خان کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ موجودہ تبدیلی کو زہنی طور پر قبول کر لیں اور انہیں زہن سے یہ بات نکال دینی چاہی? کہ ان کے بغیر صوبہ نہیں چل سکتاترجمان نے کہا ہے
کہ موجودہ حکومت نے مختصر مدت میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں جنکی جام کمال خان کو توقع نہیں تھی۔
موجودہ حکومت کو ہٹا کر کوئی سیاسی جماعت اقتدار میں آئی تو یہ اسکی سیاسی موت ہوگی، سرداراختر مینگل

ٹیگز:
سرداراختر مینگل
