کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان کے ضلع خاران کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے کمشنر رخشان ڈویڑن اسداللہ کاکڑ کو ڈرائیور سمیت اغوا کرلیا ہے۔یہ واقعہ نوشکی خاران روڈ پر اسی مقام کے قریب پیش آیا جہاں گذشتہ ماہ ڈپٹی کمشنر خاران کو اغوا کیا گیا تھا۔خاران کی ضلعی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدے دار اور خاران پولیس کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر واقعے کی تصدیق کی ہے۔دوسری جانب صوبائی حکومت نے تاحال نہ واقعے کی باضابطہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی کوئی بیان جاری کیا ہے۔حکام کے مطابق جمعرات کو اسداللہ کاکڑ اپنے ڈرائیور اور کیشیئر کے ہمراہ ذاتی گاڑی میں سکیورٹی سکواڈ کے بغیر کوئٹہ سے خاران جا رہے تھے۔ ’خاران سے قریباً 35 سے 40 کلومیٹر پہلے پولیس تھانہ پتکن کی حدود میں برشونکی کے مقام پر مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر ان کی گاڑی روک لی۔حکام نے بتایا کہ مسلح افراد نے تینوں افراد کو یرغمال بنایا، تاہم بعد میں کیشیئر حاجی قاسم کو چھوڑ دیاجبکہ کمشنر اور ڈرائیور کو اغوا کرکے گاڑی سمیت پہاڑوں کی جانب لے گئے۔ رہائی کے بعد حاجی قاسم نے پولیس اور متعلقہ حکام کو واقعے کی اطلاع دی۔ امن و امان کی خراب صورتِ حال اور خدشات کے باعث کمشنر پولیس اہلکاروں یا سکیورٹی سکواڈ کے بغیر، سرکاری گاڑی کے بجائے ذاتی گاڑی میں سفر کر رہے تھے تاکہ ان کی شناخت اور سفر خفیہ رہے۔
خاران، مسلح افراد نے کمشنر رخشان ڈویژن اسداللہ کاکڑ کو ڈرائیور سمیت اغوا کرلیا

ٹیگز:
خاران
