کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے مستقبل کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ عالمی اسٹاک اور تیل کی مارکیٹس میں بدھ کے روز مندی کا رجحان دیکھا گیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں آخری وقت پر توسیع کے باوجود غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس سے عالمی منڈیاں دباؤ میں رہیں۔دونوں اہم خام تیل کے معاہدے ابتدائی ٹریڈنگ میں کمی کا شکار رہے، تاہم ان میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا۔ منگل کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے بعد آج مارکیٹ محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ایشیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹس بھی مندی کا شکار رہیں جن میں ہانگ کانگ، سڈنی، سنگاپور، سیول اور ویلنگٹن شامل ہیں، جبکہ شنگھائی کی مارکیٹ تقریباً مستحکم رہی۔ ٹوکیو اور تائی پے میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی روک دی جائے اور جنگ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران اپنی نئی تجویز پیش نہیں کرتا۔ تاہم آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
عالمی اسٹاک اور تیل کی مارکیٹس میں ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں آخری وقت پر توسیع کے باوجود غیر یقینی صورتحال برقرار

ٹیگز:
عالمی اسٹاک
