کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ موجودہ تعلیمی رحجان روایتی ڈگریوں کے مقابلے میں مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید مہارتوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گورنر نے تمام پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو خصوصی ہدایت کی کہ وہ اکیڈمک مضامین کو جدید مہارتوں کی نشوونما کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے ایسے ہنرمند افراد پیدا کریں جو عملی زندگی میں معاشی طور پر کسی کا محتاج نہ بن سکیں۔ وقت آپہنچا ہے کہ ہم اپنے بیروزگار نوجوانوں کو پل پل بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید مہارتوں سے آراستہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں گورنر ہاؤس کوئی میں لسبیلہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ اور وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر روبینہ مشتاق سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ اسکلز ڈویلپمنٹ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی آف لورالائی گیارہ میں سے نو (9) مختلف سیکٹرز میں جدید مہارتیں سیکھانے کے پروگرام کا آغاز کر دیا جو لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی کی ڈیجیٹل انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور کے آن لائن کاروبار میں ہمارے بیروزگار نوجوانوں کیلئے بھی بیشمار منافع بخش مواقع دستیاب ہیں. اب تو بیروزگار نوجوانوں اپنے گھر بیٹھے دنیابھر کی عالمی معاشی و تجارتی منڈیوں تک رسائی حاصل کر کے سرکاری ملازمت کی تلاش میں رہنے کی بجائے دوسروں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرسکتا ہے. گورنر بلوچستان نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ سرکاری سروس سیکٹر بہت محدود ہے علاوہ ازیں ہمارے بڑے تعلیمی اداروں سے ہر سال لاکھوں افراد فارغ التحصیل ہوتے جا رہے ہیں جبکہ حکومت ان لاکھوں میں سے چند ہزار کو بھی روزگار فراہم کی پوزیشن میں نہیں ہے. اسی لیے ہر گزرتے برس کے ساتھ بیروزگار نوجوانوں کی تعداد میں بیتحاشا اضافہ ہو رہا ہے. اس کا واحد حل یہ ہے کہ ہم پبلک سیکٹر کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی مستحکم بنائیں، کارخانے اور انڈسٹری کے قیام کو ترقی اور تقویت فراہم کریں اور نئی نسل کو کوالٹی ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ جدید مہارتیں سکھانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
موجودہ تعلیمی رحجان روایتی ڈگریوں کے مقابلے میں مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید مہارتوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے،جعفرخان مندوخیل

ٹیگز:
جعفرخان مندوخیل
