کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے جاری کردہ پریس ریلیز میں صوبہ بھر، بالخصوص ہزارگنجی مارکیٹ کے علاقے میں تاجروں کے ساتھ پیش آنے والے حالیہ واقعات کو انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق پشتون تاجروں کو منظم انداز میں ہراساں کیا جا رہا ہے، ان کا قانونی اور ٹیکس ادا شدہ مال بلاجواز ضبط کیا جا رہا ہے، لاکھوں روپے بطورِ بھتہ طلب کیے جا رہے ہیں، اور مالکان کو اپنے ہی مال تک رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ بیان کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف سی اہلکار قانونی جواز کے بغیر کارروائیاں کرتے ہیں۔ نہ کوئی تحریری نوٹس جاری کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی باقاعدہ قانونی طریق کار پر عمل کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، ضبط شدہ مال کو خاموشی سے کسی اور مقام پر منتقل یا سپلائی کر دیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل ریاستی اختیار کا جائز استعمال نہیں بلکہ کھلی لاقانونیت، اختیارات سے تجاوز اور استحصال کے مترادف ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ چند روز قبل ہزارگنجی بائی پاس پر ایک سوزوکی گاڑی کے مالک سے مبینہ طور پر 90 ہزار روپے بھتہ وصول کیا گیا۔ اسی طرح 24 تاریخ کو ہزارگنجی چورنگی پر مزید چار سوزوکی گاڑیوں کا مال صرف اس بنیاد پر ضبط کر لیا گیا کہ مالکان نے بھاری رقم دینے سے انکار کیا تھا۔ بعد ازاں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے مال غائب کر دیا گیا۔ حالانکہ شہر کے اندر قانونی طور پر مال کی ترسیل پر کسی کو روکنے یا ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ یہ تمام واقعات اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ مسئلہ انفرادی نوعیت کا نہیں بلکہ منظم انداز میں تاجروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اطلاعات یہ بھی ہیں کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس بعض افراد زرنج اور سوزوکی گاڑیوں کے مالکان سے رقوم وصول کرتے ہیں اور انکار کی صورت میں ایف سی کے ذریعے مبینہ طور پر انتقامی کارروائیاں کروائی جاتی ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف قانون کی حکمرانی پر سنگین سوالیہ نشان ہیں بلکہ ریاستی رٹ کو بھی کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اندرونِ صوبہ ایک شہر سے دوسرے شہر مال کی قانونی ترسیل کے باوجود اسے ضبط کرنا اور تاجروں کو ذلیل و خوار کرنا معاشی دہشت گردی کے مترادف ہے۔ اگر ریاست خود کاروباری طبقے کو غیر محفوظ بنا دے گی تو سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور معاشی استحکام کیسے ممکن ہوگا؟ ایسے اقدطامات سے صوبے کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی اور کاروباری برادری میں شدید بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوگا۔ پریس ریلیز میں حکومتِ بلوچستان، وزارتِ داخلہ اور متعلقہ حکام سے درج ذیل مطالبات کیے گئے ہیں فوری اور شفاف انکوائری کرائی جائے۔ متاثرہ تاجروں کو بلا تاخیر انصاف فراہم کیا جائے۔ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ہزارگنجی میں کاروباری سرگرمیوں کی قانونی، محفوظ اور بلا رکاوٹ بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ آخر میں بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست کا بنیادی فریضہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور ان کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنانا ہے، نہ کہ ان کے روزگار کے ذرائع مسدود کرنا۔ اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا تو بلوچستان میں تجارت کا پہیہ جام ہو جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکومتی اداروں پر عائد ہوگی۔
ہزارگنجی مارکیٹ میں لاکھوں روپے بطورِ بھتہ طلب کیے جا رہے ہیں،پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

