کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 حب کے انتخابی تنازع میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی علی حسن زہری کو کامیاب قرار دینے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ 39 پولنگ اسٹیشنز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواستوں کا ازسرنو، قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے 20 نومبر 2024 کے رضامندی پر مبنی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن پر لازم تھا کہ وہ تمام سابقہ کارروائیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے درخواستوں کا نیا اور غیر جانبدارانہ فیصلہ کرتا، تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کے تحت پی بی 21 حب میں دوبارہ گنتی سے متعلق تمام سابقہ کارروائیاں کالعدم ہو چکی تھیں، اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے انہی کارروائیوں پر انحصار کرتے ہوئے 16 دسمبر 2024 کو نیا فیصلہ جاری کیا جو قانون کے منافی ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی ایک غیر معمولی اقدام ہے جس کی اجازت صرف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دی جا سکتی ہے کیونکہ بیلٹ پیپر کی حرمت آئینی اور قانونی طور پر مقدم ہے عدالت کے مطابق محض مبہم یا غیر واضح الزامات پر دوبارہ گنتی کا حکم دینا درست نہیں۔آئینی عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ دو ماہ کے اندر 39 پولنگ اسٹیشنز سے متعلق دوبارہ گنتی کی درخواستوں کا فیصلہ کرے اگر درخواستیں منظور کی جاتی ہیں تو دوبارہ گنتی کی جائے اور اگر مسترد ہوتی ہیں تو انتخابی عمل کو قانون کے مطابق آگے بڑھایا جائے۔عدالت کے حکم کے مطابق حتمی فیصلے تک علی حسن زہری کو کامیاب قرار دینے کا نوٹیفکیشن معطل رہے گا۔
وفاقی آئینی عدالت نے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی علی حسن زہری کو کامیاب قرار دینے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا

ٹیگز:
آئینی
