کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)ایگریکلچر ایمپلائز یونین بلوچستان کے سینئر نائب صدر شاہنواز زہری نے بلوچستان گرینڈ الائنس کے سربراہ پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ سمیت دیگر رہنماوں اور سر کاری ملازمین کی گرفتاریوں،ان پر تشدد اور انہیں پابندسلاسل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نے اپنی ہی قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات سے پر عملدآمد کرنے کے بجائے اپنے آئینی حق کیلئے آواز بلند کرنے والے سرکاری ملازمین اساتذہ،ڈاکٹرز اور انجینئرز پر ظلم ڈھا کر نہ صرف اپنی غیرسنجیدگی بلکہ مسائل کے حل میں مکمل ناکامی کا ثبوت دے رہی ہے،ایگریکلچر ایمپلائز یونین بلوچستان انتقامی کارروائیوں کے خلاف ڈٹ کر ہر فورم آواز بلند کرے گی۔گزشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایگریکلچر ایمپلائز یونین بلوچستان کے سینئر نائب صدر شاہنواز زہری نے کہا کہ گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے سرکاری ملازمین اپنے جائز اور قانونی مطالبات کیلئے پرامن احتجاج کر رہے تھے مگر حکومت نے مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے طاقت کا استعمال کیا،ظلم اور جبر کے ذریعے حق کی آواز دبانے کی کوشش ایک آمرانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے جمہوری معاشرے میں جو کسی صورت قابل قبول نہیں، ایگریکلچر ایمپلائز یونین بلوچستان صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ گرینڈ الائنس کے گرفتار تمام رہنماں اور ملازمین کو فوری طورپر رہا کیا جائے،تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ڈی آر اے سمیت گرینڈ الائنس کے مطالبات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
گرینڈ الائنس کے رہنماؤں پر تشدد وگرفتاری قابل مذمت ہے ٗ شاہنواز زہری

ٹیگز:
گرینڈ
