کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)پاکستان ریلوے کی جانب سے عوامی خدمت کے دعوؤں کے ساتھ 3 ارب روپے کی خطیر لاگت سے پیپلز ٹرین سروس شروع کی جا رہی ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس منصوبے میں نہ تو عوامی ضرورت کو مدنظر رکھا گیا ہے اور نہ ہی ریلوے کے محنت کشوں کی حالتِ زار پر کوئی توجہ دی گئی ہے۔کامریڈ مجید زہری پاکستان ریلوے انقلابی یونین اوپن لائن کے صوبائی صدر کامریڈ مجید زہری نے اپنے جاری کردہ ایک اخباری بیان میں کہا کہ کوئٹہ جیسے سرد ترین شہر میں، جہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے، ڈی ایس آفس، ریلوے اسٹیشن اور دیگر برانچوں میں کام کرنے والے ملازمین آج بھی گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اربوں روپے نمائشی اور غیر ضروری منصوبوں پر خرچ کرنے کے بجائے اگر یہی وسائل ملازمین کی فلاح، دفاتر کی بحالی اور موجودہ ٹرین سروسز کو فعال بنانے پر لگائے جاتے تو نہ صرف عوام کو ریلیف ملتا بلکہ ادارہ بھی خسارے سے نکل سکتا تھا۔ بدقسمتی سے ریلوے انتظامیہ ماضی کے ناکام تجربات سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں اور ایک بار پھر عوامی مفاد کے نام پر ایک مہنگا تجربہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز ٹرین جیسی سروسز ماضی میں بھی کامیاب ثابت نہیں ہو سکیں، نہ مسافروں کا اعتماد بحال ہوا اور نہ ہی ریلوے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ ایسے میں 3 ارب روپے کی لاگت سے نئی سروس شروع کرنا عقل و دانش سے بعید اور زمینی حقائق سے لاعلمی کا ثبوت ہے۔کامریڈ مجید زہری نے زور دے کر مطالبہ کیا کہ اس منصوبے کو فوری طور پر نظرثانی کا شکار بنایا جائے اور اس کے بجائے بولان میل کو روزانہ بنیادوں پر بحال کیا جائے جو عوام کی ایک دیرینہ ضرورت ہے، جبکہ اکبر بگٹی ایکسپریس کو فوری طور پر چلایا جائے تاکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے عوام کو سستی، محفوظ اور باقاعدہ سفری سہولت میسر آ سکے۔ یہ دونوں ٹرینیں نہ صرف عوام میں مقبول ہیں بلکہ ریلوے کے لیے معاشی طور پر بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے کے محنت کش ملازمین ادارے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، مگر انہیں مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی، تنخواہوں اور مراعات کے مسائل اور ناقص انتظامی فیصلے ملازمین کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رہے ہیں۔ اگر انتظامیہ نے فوری طور پر اپنی پالیسیاں درست نہ کیں اور ملازمین و عوامی مفادات کو ترجیح نہ دی تو محنت کش طبقہ اپنے جائز اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے سخت احتجاج پر مجبور ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری ریلوے انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
بولان میل اور اکبر بگٹی ایکسپریس فوری بحال کی جائیں، ملازمین کے حقوق پر ریلوے انتظامیہ کو فوری توجہ دینی ہوگی،کامریڈ مجید زہری

ٹیگز:
مجید زہری
