چمن(ڈیلی گرین گوادر)چمن سمیت شمالی بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث شدید سردی کی لہر میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ چمن میں 21 سالہ برفباری کا ریکارڈ ٹوٹ گیا جبکہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر کر منفی 8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ چمن، قومی شاہراہوں کے ذمہ دار ادارے اور صوبائی آفات سے نمٹنے والے محکمے کی مشترکہ کوششوں سے بھاری مشینری، کیمیکل اور نمک پاشی کے ذریعے کوئٹہ۔چمن شاہراہ کوژک ٹاپ کے دونوں اطراف سے ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔گزشتہ رات سے چمن کے میدانی و پہاڑی علاقوں خواجہ عمران، توبہ اچکزئی، قلعہ عبداللہ، گلستان، جنگل پیر علیزئی، شیلاباغ اور میزئی اڈا برف سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ برفباری کے باعث سڑکوں پر پھسلن بڑھ گئی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ شدید سردی اور برفباری کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انتظامیہ کے مطابق چمن کی تمام رابطہ سڑکوں اور قومی شاہراہوں کو کھولنے اور صاف کرنے کا عمل تاحال جاری ہے۔ادھر اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر چمن فدا بلوچ نے کوژک ٹاپ اور ملحقہ علاقوں میں جاری برف صاف کرنے کے عمل کا جائزہ لیا، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طبی عملے کو الرٹ رہنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ انہوں نے روڈ کلیئرنس میں حصہ لینے والے افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں داد اور شاباش دی۔
چمن میں 21سالہ برفباری کا ریکارڈ ٹوٹ گیا، درجہ حرارت منفی 8 تک گر گیاکوئٹہ،چمن شاہراہ بحال

ٹیگز:
چمن
