کوئٹہ (یلی گرین گوادر) پشتونخواملی عوامی پارٹی ہنہ اوڑک علاقائی پارٹی کے زیر اہتمام پارٹی کے ذمہ دار کارکنوں کا اجلاس پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری نظام عسکر نے کی زیر صدارت منعقدہوا۔ اجلاس سے ضلع کوئٹہ کے معاونین جمشید خان دوتانی، دوست محمد ہنہ وال نے خطاب کیا۔ اس موقع پر ہنہ اوڑک کی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے مطابق صادق خان آرگنائزر، یونس خان سینئر ڈپٹی آرگنائزر، خان زمان، عبدالحلیم صاحب، فرید خان،نظام خان، فتح اللہ خان، مالک خان، جعفر خان، فدا محمد، غازی خان ڈپٹی آرگنائزرمیں شامل ہیں۔ آرگنائزنگ کمیٹی سے جمشید خان دوتانی نے حلف لیا۔اجلاس میں پارٹی کے صوبائی کمیٹی کے رکن فضل ترین، فیصل کاکڑ، علاقائی سیکرٹری بروری ملک فرحان یاسین زئی، تختانی بائی پاس علاقائی معاون سیکرٹری خان ودان نے بھی شرکت کی۔مقررین نے آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین کو مبارکباد پیش کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ ہنہ اوڑک میں پارٹی کی تنظیمی فعالیت، سیاسی سرگرمیوں کو تیز کرینگے اور جلد ہی اپنے ابتدائی یونٹوں کے میٹنگز بلا کر ان کے کانفرنسز اور پھر 17فروری کو پارٹی کے علاقائی کمیٹی کے اجلاس میں اپنا رپورٹ پیش کرینگے۔ انہوں نے کہاکہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے پروگرام کو گھر گھر پہنچانے اور پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی کی قیادت میں جاری قومی سیاسی جمہوری جدوجہد ہی کے ذریعے ہم اپنے قومی اہداف حاصل کرسکتے ہیں اور ہمارے عوام کو درپیش اذیت ناک صورتحال سے نجات حاصل ہوگی۔ غیروں کی سیاست نے ہمیشہ ہمارے عوام کو نقصان ہی پہنچایا اور اپنی ذاتی گروہی مفادات کی خاطر زئی وخیلی اور نام نہاد ناموں کے ذریعے عوام کو تقسیم در تقسیم رکھنے اور انہیں پسماندہ اور ترقی سے محروم رکھنے کی کوششیں آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنہ اوڑک کوئٹہ شہر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے لیکن آج اس کی حالت زار ہم سب کے سامنے ہیں۔ گزشتہ مہینوں شدید بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد ہنہ اوڑک جہاں انفراسٹریکچر مکمل طور پر تباہ ہوا، مسلط صوبائی حکومت اور نمائندوں کا دورہ محض فوٹو سیشن کی حد تک محدود رہا آج بھی ہنہ اوڑک میں سڑک کا وجود نہیں۔ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور چند گھنٹے کی بجلی کی فراہمی کے دوران وولٹیج کی کمی سے صارفین پریشان ہیں، گیس پریشر کی شدید کمی نے علاقے کے عوام کو ذہنی کوفت کا شکار بنادیا ہے۔ جن لوگوں کے گھر، مکانات مندہم ہوئے یا سیلاب میں بہہ گئے وہ آج بھی کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،ہنہ اوڑک جیسے سرد علاقے میں خیمے میں زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر شلٹر ہاؤسز تعمیر کرتی، متاثرہ خاندانوں کیلئے ایک دن کی بجائے مہینے بھر کا راشن، اشیاء ضروریات زندگی فراہم کرتی، گیس، بجلی 24گھنٹے مکمل وولٹیج اور درست پریشر کے ساتھ فراہم کرتی، موسم کی وجہ سے اگر پختہ سڑک تعمیر نہیں کیا گیا تو عارضی طور پر تعمیر کی جاتی تاکہ سڑک کو ٹرانسپورٹ کی آمدورفت کیلئے بروئے کار لایا جاسکتا۔سہولیات نہ ہونے کے باعث علاقے کے متاثرہ عوام شہر کے مختلف علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ہنگامی بنیادوں پر عملی طور پر اقدامات اٹھا کر متاثرہ عوام کی مددکی جائیں اور انہیں بنیادی سہولیا ت کی فراہمی اور سڑک کی تعمیر کرکے ہر شعبہ زندگی میں ریلیف دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی چیئرمین محتر م محمود خان اچکزئی نے انہی دنوں سیلاب سے متاثرہ دیہاتوں اور علاقے کا دورہ کیا اور پارٹی رہنماؤں وکارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ ہر ممکنہ تعاون اور خدمت ان متاثرہ عوام کے ساتھ جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکن اپنے ابتدائی یونٹوں کو فعال بناکر ہی اپنے عوام کی بہتر خدمت کرسکتے ہیں کیونکہ پارٹی کے ابتدائی یونٹ ہمارے عوام سے رابطے کا ذریعہ ہے ہمیں تنظیمی، سیاسی فعالیت کو تیزکرکے پارٹی کو ایک بار پھر ہنہ اوڑک میں عوام کی خدمت پر مامور کرتے ہوئے اپنی جاری جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا۔
حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد ہنہ اوڑک کا انفراسٹریکچر مکمل طور پر تباہ ہوا ہیں، پشتونخواملی عوامی پارٹی

ٹیگز:
پشتونخواملی عوامی پارٹی
