کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے صوبے کی سنگین معاشی اور سیاسی صورتِ حال پر تفصیلی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیگل اور الیگل کے مبہم، غیر واضح اور امتیازی بیانیے کی آڑ میں بلوچستان کے لاکھوں عوام کو ایگزیکٹوآڈر بے روزگار کر دیا گیا، مگر اس وسیع پیمانے پر معاشی تباہی کے بدلے نہ کوئی متبادل معاشی ماڈل دیا گیا اور نہ ہی کوئی تدریجی یا انسانی بنیادوں پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کی گئی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ایک بڑی آبادی تقریباً 35 سے 40 فیصد کا براہِ راست یا بالواسطہ تعلق سرحدی اضلاع سے ہے، جن میں چمن، نوشکی، پنجگور، واشک، کیچ، گوادر اورژوب ڈویژن کے متعدد علاقے شامل ہیں۔ ان اضلاع کے عوام کی روزی روٹی دہائیوں سے بارڈر ٹریڈ، سرحدی آمد و رفت، چھوٹے پیمانے کی تجارت اور ٹرانسپورٹیشن سے وابستہ تھی، مگر اچانک اور غیر مشاورت پر مبنی فیصلوں کے نتیجے میں یہ مکمل معاشی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور لاکھوں خاندان آج بے روزگاری، فاقہ کشی اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔مولانا عبدالواسع نے واضح کیا کہ سرحدی تجارت کو بغیر متبادل بند کرنا درحقیقت سرحدی آبادیوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے جبکہ دنیا بھر میں سرحدی تجارت کو ریگولیٹ کر کے معاشی استحکام اور امن کی بنیاد بنایا جاتا ہے نہ کہ اسے بند کر کے معاشی خلا پیدا کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کا زرعی شعبہ مکمل تباہی سے دوچار ہے۔ پانی کی قلت، ڈیمز اور نہری نظام کی عدم تکمیل، زرعی کھاد، بیج، زرعی ادویات کی ہوشربا مہنگائی، اور فصلوں کے لیے منڈیوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث کاشتکار دیوالیہ ہو چکا ہے۔ زیارت، پشین، قلعہ سیف اللہ، مستونگ، قلات اور سبی کے کسان اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جو صوبے میں دیہی بے دخلی کو جنم دے رہا ہے۔امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان نے کہا کہ مائننگ کا شعبہ جو بلوچستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، آج کے مفادات کی نذر ہو چکا ہے۔ مقامی آبادی کو نہ روزگار دیا جا رہا ہے، نہ رائلٹی، اور نہ ہی آرٹیکل 172(3) آئینِ پاکستان کے مطابق صوبے اور عوام کو ان کے وسائل پر حق دیا جا رہا ہے۔ نتیجتاً معدنیات سے مالا مال علاقے کے عوام غربت کی بدترین سطح پر زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے تاجروں کے حوالے سے کہا کہ بلوچستان کے تاجر برادری اس وقت غیر اعلانیہ معاشی ایمرجنسی کا سامنا کر رہی ہے۔ گوداموں پر چھاپے، غیر ضروری چیک پوسٹس، بین الصوبائی نقل و حمل میں رکاوٹیں، بارڈر بندش اور ٹیکس و ضابطہ جاتی بے یقینی نے تجارتی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ کوئٹہ، چمن، تربت، گوادر اور ڑوب کے تاجر اپنی تجارت سمیٹنے پر مجبور ہیں، جس کے اثرات براہِ راست صوبائی ریونیو اور روزگار پر پڑ رہے ہیں۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی اور بدامنی کی جو قیمت ادا کر رہا ہے، وہ محض جانی نقصان تک محدود نہیں بلکہ فکری، تعلیمی اور سماجی سرمایہ بھی اس آگ کی نذر ہو چکا ہے۔ ہزاروں علماء، دانشور، اساتذہ اور سماجی رہنما، جو صوبے کی اصل قوت تھے، شہید کیے گئے یا صوبہ چھوڑنے پر مجبور ہوئیایسا خلا جو برسوں میں بھی پْر نہیں ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبہ اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین سیاسی اور آئینی بحران سے گزر رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ عوامی نمائندگی پر منظم شب خون مارنا ہے۔ عوام کو ان کے آئینی حقِ رائے دہی سے محروم کر کے، ایک مصنوعی سیاسی ڈھانچہ کھڑا کیا گیا ہے، جسے جمہوریت کا نام دیا جا رہا ہے، حالانکہ عملی طور پر یہ طرزِ حکمرانی آمریت سے بھی زیادہ غیر شفاف اور غیر جوابدہ ثابت ہو رہی ہے۔آخر میں امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان نے زور دیا کہ بلوچستان میں کنفیڈنس بلڈنگ میڑرز ناگزیر ہو چکے ہیں، اور اس عمل کا آغاز وفاق کو کرنا ہوگا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم، این ایف سی ایوارڈ، صوبائی خودمختاری، بارڈر ٹریڈ کے لیے ریگولیٹڈ فریم ورک، مقامی روزگار، اور حقیقی عوامی نمائندگی کی بحالی ہی وہ اقدامات ہیں جو صوبے کو بحران سے نکال سکتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ریاست نے زمینی حقائق کو تسلیم نہ کیا اور عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کیا، تو بلوچستان کا یہ بحران محض صوبائی نہیں رہے گا بلکہ قومی یکجہتی اور وفاقی استحکام کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے۔
گوداموں پر چھاپے، غیر ضروری چیک پوسٹس، بین الصوبائی نقل و حمل میں رکاوٹیں، بارڈر بندش اور ٹیکس و ضابطہ جاتی بے یقینی نے تجارتی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا،مولانا عبدالواسع

ٹیگز:
عبدالواسع
