کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان نیشنل پارٹی مرکزی سیکرٹری اطلاعات سابق وفاقی وزیر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آغا حسن بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پارٹی نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر جن تحفظات کا اظہار کیا وہ آج درست ثابت ہوئیں پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خبردار کر دیا تھا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے انصاف کے نظام کو معزول کرنے کی تیاریاں کی جا چکی ہیں انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی، توقیر کو ٹھیس پہنچانے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ،ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے آرٹیکل 184کے اختیارات کو ختم کرنے اور آئندہ 6 سے 8سال کیلئے عدالت عظمیٰ، فیڈرل کورٹس، ہائی کورٹس میں من پسند افراد کو تعینات کیا جائے اورمرضی کے فیصلے مسلط کئے جا سکیں انصاف کے منصب پر بیٹھے ججز سے سوموٹو نوٹس کا اختیار لینا انتہائی خطرناک ہے جس سے ملکی و بین القوامی سطح پر عدلیہ کی آزادی، شفافیت پر سوالات اٹھائے جائیں گے موجودہ فارم 47کے حکمرانوں نے سپریم کورٹ اور آئین کے ساتھ جو کھلواڑ کیا یہ عدلیہ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گی ترمیم کی منظوری کے ساتھ ہی سینئر ججز کی جانب سے استعفے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکمران عدلیہ کے اختیارات کو سلب،فرد واحد کو پابند سلاسل رکھنے اور انصاف کے عمل کو اپنے اختیار میں رکھنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں ایسے من پسند فیصلوں پر عالمی سطح پر بھی انگلیاں اٹھائی جائیں گی حکمرانوں نے ذاتی مفادات کی تکمیل کیلئے آئینی ترامیم کیں صدر پاکستان کے استثنیٰ سے متعلق جو ترامیم کی گئیں وہ غیر اسلامی غیر شرعی ہیں اسلامی و جمہوری ملک میں کسی کو اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ خود کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے آئین میں ردوبدل کروائے آئین و عدلیہ نظام کے ساتھ گھاؤنا کھیل کھیلا گیا اس سے انصاف کا نظام متاثر اور بحران سے مزید پیچیدگیوں جنم لیں گیں انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت نے ثابت کیا کہ غیر آئینی، غیر جمہوری ترامیم میں جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں حکومت میں براجمان نام نہاد پارٹیاں مستقبل میں عوامی غضب نہیں بچ سکیں گی –
حالیہ آئینی ترامیم کا مقصد من پسند فیصلوں کو عوام پر مسلط کرنا ہے، آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ

ٹیگز:
آغا حسن
