تربت(ڈیلی گرین گوادر)نیشنل پارٹی مکران ریجن کا اجلاس ریجنل سیکریٹری واجہ ابوالحسن بلوچ کی صدارت میں پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ اجلاس میں تنظیمی امور، موجودہ سیاسی صورتحال، گوادر میں پانی کے بحران، بارڈر کاروبار کی بندش اور دیگر عوامی و سماجی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بارڈر کاروبار لاکھوں افراد کا ذریعہ معاش ہے اور اس کی بندش سے ہزاروں گھرانے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بے روزگاری خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے، اس لیے حکومت کو نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے گوادر میں پانی کی قلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے نام پر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے، مگر گوادر کے عوام آج بھی پانی کے ایک ایک قطرے کو ترس رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر گوادر میں پانی کی فراہمی کے منصوبے مکمل کرے تاکہ عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی ایک عوام دوست اور جمہوری جماعت ہے جو عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ عام انتخابات میں نیشنل پارٹی کو کارکنوں کی محنت سے کامیابی ملی مگر پارٹی کے مینڈیٹ کو فارم 47 کے ذریعے تبدیل کیا گیا۔نیشنل پارٹی کے ریجنل سیکریٹری واجہ ابوالحسن بلوچ نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ مکران کے تمام اضلاع میں باقاعدگی سے تنظیمی سرگرمیاں اور سیاسی سرکلز کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شہید ڈاکٹر یاسین بلوچ کی برسی 12 نومبر کو عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی اور اس موقع پر جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا۔اجلاس میں مکران ریجن کے تینوں اضلاع پر مشتمل ایک دورہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جو عوامی رابطہ مہم کو مزید فعال بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔
بارڈر بندش سے لاکھوں افراد کا روزگار متاثر، حکومت نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کرے، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ

ٹیگز:
بارڈر
