کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں صحت کا شعبہ کرپشن، کمیشن اور اقرباپروری کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ناک کے نیچے محکمہ صحت میں بدعنوانی کا جاری رہنا لمحہ فکریہ ہے، اس صورتحال کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام ناگزیر ہے۔سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات، سرجیکل آلات اور ضروری سامان ناپید ہوچکا ہے، غریب مریض علاج کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ انکشافات کے مطابق خودکش دھماکوں میں شہید افراد کی میتیں وصول کرنے کے لیے لواحقین سے پیسے لینا انتہائی شرمناک اور قابلِ مذمت عمل ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ محکمہ صحت میں انسانی ہمدردی کے بجائے مفاد پرستی کا کلچر فروغ پاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے صحت کی بہتری کے تمام دعوے محض دکھاوا ہیں، صوبے کے بیشتر اسپتالوں میں علاج کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ ڈاکٹرز بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ محکمہ صحت میں کروڑوں روپے کی کرپشن ہوچکی ہے۔سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا کہ محکمہ صحت میں من پسند بھرتیاں، کمیشن اور کنٹریکٹ کی بندربانٹ نے ادارے کو مفلوج کردیا ہے۔ ماضی میں سی ٹی ایس پی سمیت نجی اداروں کے ذریعے کی جانے والی بھرتیوں میں کرپشن کے واضح ثبوت سامنے آچکے ہیں مگر کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔انہوں نے وزیراعلی بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ صحت کے شعبے میں بے ضابطگیوں پر فوری نوٹس لیں اور اس حوالے سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیں تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ ساتھ ہی نیب، اینٹی کرپشن اور دیگر اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ محکمہ صحت بلوچستان میں کرپشن اور بدعنوانیوں کی اعلی سطح پر تحقیقات کریں کیونکہ عوام کی جانوں سے کھیلنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔
محکمہ صحت میں من پسند بھرتیاں، کمیشن اور کنٹریکٹ کی بندربانٹ نے ادارے کو مفلوج کردیا ہے ٗ منظور کاکڑ

ٹیگز:
صحت
