کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ ایک وضاحتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز صوبائی اسمبلی کے فلور پر وزیراعلیٰ کی جانب سے پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کے حوالے سے یہ کہنا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ کے ساتھ ہونے والی باہمی گفتگو کو ہائی کورٹ میں پیش کیا تھا، حقائق کے منافی اور اصل معاملے کی غلط ترجمانی ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے سانحۂ زیارت کے حوالے سے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے صرف وہ وائس میسج پیش کیا تھا جو انہوں نے 6 جولائی کو شام 7 بج کر 36 منٹ پر وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کو بھیجا تھا۔ اس وائس میسج میں سانحۂ زیارت کے تناظر میں دہشت گردی کے واقعے کے دوران پولیس اہلکاروں کو درپیش صورتحال کی جانب وزیراعلیٰ کی توجہ مبذول کراتے ہوئے متعلقہ حکام سے بروقت اور ضروری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اعلامیے کے مطابق نصراللہ خان زیرے نے نہ تو وزیراعلیٰ کی آواز ریکارڈ کرکے عدالت میں پیش کی اور نہ ہی وزیراعلیٰ کے ساتھ ہونے والی کسی باہمی گفتگو کو جوڈیشل کمیشن کے سامنے رکھا۔ جوڈیشل کمیشن کے ریکارڈ سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ کمیشن کے سامنے صرف وہ وائس میسج پیش کیا گیا تھا جو نصراللہ خان زیرے نے وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کو بھیجا تھا۔ لہٰذا اس عمل کو وزیراعلیٰ کی نجی گفتگو یا باہمی بات چیت کو عدالت میں پیش کرنے سے تعبیر کرنا درست نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کسی بھی شخص کی نجی گفتگو یا باہمی بات چیت کو بلاجواز منظرِ عام پر لانے کے حق میں نہیں اور اسے اخلاقی اصولوں کے منافی سمجھتی ہے۔ تاہم سانحۂ زیارت جیسے حساس اور سنگین واقعے کے حوالے سے متعلقہ حکام کو بھیجے گئے وائس میسج کو جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش کرنے کا مقصد کسی کی نجی گفتگو افشا کرنا نہیں تھا، بلکہ واقعے سے متعلق حقائق کو ریکارڈ پر لانا، متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرانا اور پولیس اہلکاروں کی جان و سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کی ضرورت اجاگر کرنا تھا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے صوبائی اسمبلی کے فلور پر اس معاملے کو جس انداز میں پیش کیا گیا، وہ اصل حقائق اور دستیاب ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حساس نوعیت کے واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے ذمہ دار عوامی عہدیداروں کو چاہیے کہ وہ ذاتی تاثر یا نامکمل معلومات کی بنیاد پر بات کرنے کے بجائے حقائق، مستند ریکارڈ اور واقعے کے اصل پس منظر کو سامنے رکھیں۔
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اس امر پر زور دیا ہے کہ سانحۂ زیارت جیسے اہم معاملے کو سیاسی بیان بازی کے بجائے حقائق اور ذمہ داری کے ساتھ دیکھا جائے، تاکہ اصل واقعے، اس کے محرکات اور متعلقہ حکام کی ذمہ داریوں کے تعین میں کسی قسم کا ابہام پیدا نہ ہو۔

