اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر) وفاقی وزرا نے صوبہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس صوبے کا نظام چلانے کے لیے 11 رکنی کونسل کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن ہمارے لیے آسان نہیں تھا، صوبے میں آئینی طریقہ کار کے تحت ایمرجنسی لگائی گئی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور سابق صوبائی رکن اسمبلی ثمر بلور پریس کانفرنس میں شریک تھے۔
پریس کانفرنس کے اہم نکات:
خیبر پختونخوا میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال کے پیشِ نظر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا۔
صوبے کے انتظامی امور چلانے کے لیے گورنر کی معاونت کی غرض سے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کرنے کا اعلان
دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم
وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ سابق صوبائی انتظامیہ کے بعض ارکان کے طالبان سے مبینہ روابط کے درجنوں شواہد موجود ہیں۔
وفاقی وزرا کے مطابق گزشتہ رات بھی پی ٹی آئی سے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی گئی۔
سہیل آفریدی کی گرفتاری کی تصدیق یا تردید نہیں کی تاہم بعض پی ٹی آئی ارکان کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی گئی۔
گورنر راج و ایمرجنسی کے فیصلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیرکے کردارسے متعلق سوال کو مسترد کردیا گیا۔
محسن نقوی نے پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے آسان نہیں تھا، ہم ایک مہینے سے زیادہ کوشش کرتے رہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کو آن بورڈ لے سکیں، میں ذاتی طور پر بیک گراؤنڈ میں رابطے میں تھا۔

