کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)کوئٹہ کراچی روٹ کے ٹرانسپورٹروں نے ہزار گنجی بس ٹرمینل کے معاملے پر اپنے اصولی اور قانونی مؤقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی صورت اس حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ یہ ٹرمینل سابق وزیر اعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور میں انہیں الاٹ کیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے ساتھ واجبات بھی جمع کرائے، لہذا اب اس ٹرمینل کو چھوڑنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ بات ٹرانسپورٹروں کے نمائندہ وفد نے کمشنر آفس کوئٹہ میں منعقدہ اعلی سطحی اجلاس میں کہی۔ اجلاس میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن، سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، سیکرٹری کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ایس ایس پی ٹریفک شریک تھے۔ ٹرانسپورٹروں کی جانب سے حاجی میر حکمت لہڑی، حاجی حبیب اللہ خان بادیزئی، حاجی میر اکبر لہڑی، وحید خان کاکڑ، حاجی موسی جان اچکزئی، حاجی محمد ابراہیم، حاجی نصر اللہ دہوار اور حافظ موجود تھے۔ٹرانسپورٹروں نے مؤقف اپنایا کہ ہزار گنجی ٹرمینل کے قیام سے نہ صرف کوئٹہ کراچی روٹ پر سفر کرنے والے مسافروں کو سہولت ملے گی بلکہ شہر میں بڑھتی ہوئی ٹریفک کے دبا میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اگر عوام کو آسانیاں فراہم کرنی ہیں تو اس ٹرمینل کو فوری فعال بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔اجلاس میں مختلف تجاویز زیر غور آئیں، جن میں متبادل مقامات پر بس اڈے قائم کرنے اور موجودہ ٹرمینل کی توسیع شامل تھی، تاہم ٹرانسپورٹروں نے واضح کیا کہ ہزار گنجی بس ٹرمینل ان کا قانونی حق ہے اور وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وفد نے کہا کہ وہ اپنی برادری سے مشاورت کے بعد حکومت کو تجاویز پر حتمی جواب پیش کریں گے۔
کوئٹہ کراچی روٹ کے ٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل پر موقف برقرار

ٹیگز:
کوئٹہ
