کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور مضافاتی علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے گر چکی ہے، جس کے باعث شہر ایک شدید آبی بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق زیر زمین پانی کی سطح 1980 کی دہائی میں 200 فٹ تھی جو اب کم ہو کر 2200 فٹ تک پہنچ چکی ہے۔ سال 2024 میں کچھ علاقوں میں یہ سطح 1200 فٹ تک تھی، مگر 2025 میں یہ مزید گر کر 1800 سے 2200 فٹ تک پہنچ چکی ہے۔ماہرین نے یو این اے سے گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال جاری رہی تو اگلے پانچ سے آٹھ سالوں میں کوئٹہ شہر کو مکمل طور پر پانی کی قلت کا سامنا ہو گا اور شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیر زمین پانی کی سالانہ سطح میں کمی کی شرح اب 60 سے 70 فٹ ہو چکی ہے، جو خطرناک رجحان ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، بارشوں کی کمی، آبادی میں اضافہ، غیر قانونی ٹیوب ویلز کی تنصیب اور پانی کے بے دریغ استعمال نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ماہرین نے مزید بتایا کہ پانی کی سطح میں کمی سے زمین کی نشست (land subsidence) کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، جو عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کوئٹہ “گھوسٹ سٹی” میں تبدیل ہو سکتا ہے۔واسا کی طرف سے پانی کی فراہمی میں کمی کے باعث شہری واٹر ٹینکرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ واٹر ٹینکر مافیا نے فی ٹینکر کی قیمت 2500 سے 3000 روپے تک بڑھا دی ہے، جو عام شہری کی پہنچ سے باہر ہے۔ شہریوں کو نہ صرف پانی مہنگے داموں لینا پڑ رہا ہے بلکہ فراہم کردہ پانی کی مقدار اور معیار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔پانی کی قلت کے باعث کوئٹہ شہر کو روزانہ 26 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق غیر معیاری پانی کے استعمال سے پیٹ، جگر، کالے یرقان اور جلدی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واسا کی کارکردگی بہتر بنائی جائے، غیر قانونی ٹیوب ویلز کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، چھوٹے ڈیموں کی تعمیر اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبوں پر عملدرآمد تیز کیا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ زراعت اور صنعت میں پانی کے مثر استعمال کے لیے جدید ٹیکنالوجی اپنانی ہوگی۔ ساتھ ہی عوام میں پانی کے بچا اور کفایت شعاری کا شعور اجاگر کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بصورت دیگر، کوئٹہ کو ایک ناقابلِ تلافی بحران کا سامنا ہو گا۔
کوئٹہ ،آبی بحران شدت اختیار کر گیا، زیر زمین پانی کی سطح 2200 فٹ تک جا پہنچی

