کوئٹہ(یو این اے )صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد مہنگائی کی نئی لہر نے شہریوں کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ زندہ مرغی اور مرغی کے گوشت کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ روزمرہ کی اشیائے خورونوش، پھل، سبزیاں اور دالیں بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مرغی کا گوشت 630 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔ چینی کی قیمت میں 5 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور اب چینی 200 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ آٹے کی قیمت بھی 5 روپے اضافے کے بعد 100 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔پھلوں میں آم 250 روپے فی کلو، آڑو 250 سے 400 روپے، خربوزہ 150 روپے اور تربوز 100 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔سبزیوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے:آلو 400 روپے (پانچ کلو)پیاز 300 روپے (پانچ کلو)ٹماٹر 300 روپے (پانچ کلو)لیموں 300 روپے، لہسن 600 روپے، ادرک 800 روپے فی کلوسبز مرچ 200 روپے، بھنڈی 250 روپے، بینگن 150 روپے، پھول گوبھی 150 روپے، مٹر 400 روپے فی کلودالوں میں:دال مونگ 450 روپے، دال چنا 350 روپے فی کلوٹوٹا چاول 250 روپے، باسمتی چاول 400 سے 450 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور آمدن میں کمی کے باعث ان کی قوتِ خرید ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر مثر حکمت عملی کے تحت قیمتوں کو کنٹرول کرے۔دوسری جانب دکانداروں اور ہول سیل ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں اضافہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے باعث ہوا ہے جس نے ٹرانسپورٹ اور سپلائی کے اخراجات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ شہری حلقوں نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مہنگائی کے طوفان کو روکا جا سکے۔
کوئٹہ ،پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے مہنگائی کی نئی لہر ، سب کچھ مہنگا

