کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچ ڈاکٹرز فورم نے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی جانب سے حالیہ میڈیکل فیکلٹی کے نتائج اور فاطمہ جناح چسٹ انسٹیٹیوٹ میں بھرتیوں کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بلوچ ڈاکٹروں کے ساتھ کھلی ناانصافی قرار دیا ہے۔ ترجمان بلوچ ڈاکٹرز فورم کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ زونل کوٹہ کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے اہل بلوچ امیدواروں کو نظر انداز کیا گیا، جب کہ دیگر زونز سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو تعینات کیا گیا جو کہ انصاف، آئین اور اہلیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ عمل نہ صرف بلوچ ڈاکٹروں کی حق تلفی ہے بلکہ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ ترجمان نے محکمہ صحت اور خصوصا سیکرٹری ہیلتھ کے کردار پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کا رویہ مکمل طور پر جانبدارانہ ہے، اور اگر انہیں بلوچوں سے اس قدر مسئلہ ہے تو وہ سیاست میں آ کر اپنا تعصب دکھائیں، نہ کہ ایک آئینی ادارے میں بیٹھ کر ناانصافی کریں۔بلوچ ڈاکٹرز فورم نے وزیراعلی بلوچستان اور صوبائی وزرا سے مطالبہ کیا ہے کہ:بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے حالیہ میڈیکل فیکلٹی کے نتائج کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔زونل کوٹہ سسٹم کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے کمیشن کے رولز میں فوری تبدیلی کی جائے۔موجودہ تعیناتیوں کو معطل کر کے نئی شفاف اور منصفانہ بھرتیوں کا عمل شروع کیا جائے۔متعصب سیکرٹری ہیلتھ کو فی الفور ان کے عہدے سے ہٹایا جائے۔بلوچ ڈاکٹرز فورم نے انتباہ دیا کہ اگر یہ ناانصافی کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ آئندہ کا لائحہ عمل سخت سے سخت تر اپنانے پر مجبور ہوں گے۔
بلوچ ڈاکٹرز فورم کا میڈیکل فیکلٹی کے نتائج اور فاطمہ جناح چسٹ انسٹیٹیوٹ میں بھرتیوں پر شدید تنقید

ٹیگز:
بلوچ ڈاکٹرز
