کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے گذشتہ روز بلوچستان کے موسی خیل کے علاقے میں بس کے مسافروں کو شناخت کے بعد قتل کے واقعہ سمیت بلوچستان بھر میں نوجوان ہونہار طالبعلموں کو کسی الزام و عدالتی و قانونی کاروائی کے بغیر لاپتہ اور پھر انکی لاشوں کی برآمدگی صوبے میں امن و امان کی کئی عرصے سے زبوں حالی اور کْشت و خون کو روکنے میں حکومت کی ناکامی کا مظہر ہے گذشتہ ایک سال سے صوبے میں خون کی ھولی کھیلی جارہی ہے مگر حْکمران حسب معمول سب اچھا ہے کا پیغام دے رہے ہے اور اسے حالات کی سنگینی کا کوء احساس نہیں ہے ھمیں ان حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ایسے اقدام سرکاری و غیر سرکاری سطح پر کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ ضرورت اس امر کی ہے صوبے کے زْعماء و مقتدر حلقے صوبے و ملک کے ہر شہری کے جان و مال و عزت آبرو و شہری آزادیوں کا تحفظ کریں بے گناہ مسافروں و مزدوروں سمیت بلوچ طلبہ کی گْمشدگی کا سد باب کرے بے گناہ نوجوانوں کی ماورائے عدالت قتل کے پے درپے واقعات کا روک تھا کرے خواتین و مرد سیاسی سماجی کارکنوں کی آواز کو دبانے اور ان کو پابند سلال کرنے سے گْریز کرے تمام لاپتہ افراد کو قانون کے حوالے کریں خواتین سمیت مرد سیاسی کارکنوں کو فوری رہا اور ہر فوجداری جْرم کے مرتکب عناصر کو بے نقاب کرکے قرار واقعی سزا دی جائے
بس کے مسافروں کو شناخت کے بعد قتل کرنا حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے،امان اللہ کنرانی

