کوئٹہ(یو این اے )[ہمیں یہ خوف ہے کہ پاکستان ہماری اپنی بد کاریوں اور خطا کا ریوں کی وجہ سے ڈوب رہا ہے ہماری پارلیمنٹ کے اختیارات وبنیادی انسانی حقوق، جلسہ، جلوس،تحریر، تقریر، میٹنگ کرنے، احتجاج کرنے کی آزادی یہ سب چھین لیئے گئے ہیں، پاکستان میں آئین معطل ہو چکا ہے، پاکستان کے ادارے بہت بڑی بربادی میں ڈوب گئے ہیں تمام ادارے اوپر سے لیکر نیچے تک کرپشن میں مبتلا ہیں اس کے خلاف ہر پاکستانی کو نکلنا ہو گا اور اس ناجائز زر اور زور کی بنیاد پر کھڑی کی گئی غلط،غیر جمہوری اور غیر آئینی حکومت کا خاتمہ کرنا ہو گا۔عوام کی طاقت خدا کی طاقت ہو تی ہے،ایک جمہوری حکومت کا قیام نا گزیر ہے، عوام کی طاقت اور دنیا کی سپورٹ سے جمہوری حکومت بنے گی۔ عمران خان اس وقت پاکستان کا سب سے پا پولر لیڈر ہے، سپریم کورٹ کسی پارٹی کا انتخابی نشان چھینے؟ یہ تو کمال کیا ان نوجوانوں نے جنہوں نے190 سے زائد مختلف انتخابی نشانوں پر الیکشن لڑ کر تحریک انصاف کو کامیابی دلوائی اور یہاں یاروں کے پلان کو بگاڑ دیا۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سر براہ او رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے ایک خبر رساں ادارے کو انٹرویو د یتے ہوئے کیا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم بین الاقوامی دنیا سے بھی اپیل کرینگے کہ وہ اپنے ممالک میں تو حیوانات کے حقوق کے بھی ادارے بناتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بد ترین انسانی حقوق کی پائمالیوں کا بھی نوٹس لینا ہو گا۔یہاں 4 ہزار سے زائد بچے جنہوں نے نہ وزیراعظم بننا تھا،نہ وزیر، نہ مشیر نہ سینیٹر صرف جمہوریت کیلئے آج بھی ملک کے مختلف جیلوں میں پڑے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب ایک ملک کے ادارے ایک پارٹی یا ایک مرد کے خلاف اس حد تک جائیں کہ اس پارٹی کا انتخابی نشان چھین لے پھر سپر یم کورٹ کے فیصلے کو رد کر نے کیلئے عدلیہ کو ایک نئی چیز بنائی جائے کہ اسے ایک ہیلمحے میں فارغ کر دے یہ باتیں بربادی کی ہیں اس ملک کی سب سے بڑی بربادی کرپشن ہے ہم نے کسی کو گالی دینگے نہ پتھر مارینگے نہ بندوق چلائینگے لیکن یہ ہمارا حق ہے کہ ہم سڑکیں بندکردیں اور اس ناجائز زر اور زور کی بنیاد پر قائم حکومت کا خاتمہ ممکن بنائیں عوام کی طاقت خدا کی طاقت ہو تی ہے عوام کی طاقت کے سامنے سب کچھ بھپر جائے گا۔ ایران میں انقلاب سے2 مہینے پہلے شاہ ایران کو سب سے مضبوط آدمی قرار دیا تھا لیکن اس کی ساری دیواریں نہتے انسانوں نے گرادیں۔ایک سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جس کو گرفتار کرنا ہے کوئی مارنا چا ہتا ہے ہم احتجاج کرینگے اور یہ دیکھیں گے کہ حکومت شہباز بھائی اور کون اپنی کمنٹمنٹ پہ کھڑا رہتا ہے اور ایک غلط کام کیلئے اس حد تک جائینگے کہ پرامن احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلائینگے۔ ہمیں ہمارا آئین حکم دیتا ہے کہ ظلم کے خلاف آئین کی پائمالی کے خلاف نکلیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک ذمہ دار آدمی یہ بات کہہ رہا تھا کہ سارے ادارے ایک پیج پر ہیں سارے ادارے اس پوری دنیا میں ایک پیج پر اس طرح ہو تے ہیں کہ ہر ادارہ اپنے اپنے آئینی فریم میں کام کر تے ہیں اس طرح نہیں کہ میرے پاس بندوق ہے، میرے پاس ٹینک ہے لہذا سب نے میری بات ماننی ہو گی۔ ایک امریکی نے بات کی تھی ہمیں اس کو سپورٹ کرنا ہو گا اس نے کہا تھا کہ تیسری دنیا کے وہ تمام لوگ جو حکومتوں میں رہے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو ہمیں معلومات کرنی چاہیے کہ ان کے ذرائع آمدن سے زیادہ جائیدادکہاں سے آئی اسے لیکر ہم آئی ایم ایف کے قرضے میں ڈالیں گے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایک جمہوری حکومت آئیگی،اس میں تب تک ملک سے باہر جانے پر پابندی ہونی چاہیے کہ آپ فلاں گریڈ کے آفیسر ہیں اور یہ جائیدادیں آپ نے اتنی زیادہ کہاں سے بنائی؟عوام کی طاقت سے آئینی جمہوری حکومت آئیگی، ہم تمام جمہوری دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے آپ اپنی ریاست میں حیوانات کی تحفظ کا بھی ادارہ رکھتے ہیں اور یہاں بدمعاش ہمارے بچوں کو مارنے کے لیے کوئی قانون او ررولز نہ ہو، ہمارے لوگوں کو بے عزت کرتے ہو اور آپ انہیں سپورٹ کرتے ہیں تو ہمارا راستہ کیا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہر وہ پاکستانی جس کو یہ ملک عزیز ہے، جو چاہتا ہے کہ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون،انصاف ہو ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ملک کو ٹریک پر لائیں۔ جو فرد، جو پارٹی، جو ادارے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، انصاف پر مبنی معاشرے کے لیے تحریک میں نہیں آئینگے ان کو پھر کوئی پوچھے گا بھی نہیں چاہے وہ جتنے بھی بڑے لیڈر ہو۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مذاکرات بالکل ہونے چاہیے لیکن اس بات پر کہ آپ نے مینڈیٹ چوری کیا ہے اس کا حل نکالیں۔ زروزور، دھمکیوں کی بنیاد پر چوری کیا۔خود کو دہشتگردی کے مخالف کہنے والے الیکشن کے دن 25کروڑ انسانوں کو دہشت زدہ کرکے زروزور کی بنیاد پر یہ حکومت بنائی ہے۔مذاکرات اس بات پر ہوں گے کہ اس دہشت گردی سے توبہ کردو اور شفاف الیکشن ایسے ہوں گے کہ یہاں ایک خودمختار الیکشن کمیشن ہوگا، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگا، سینٹ کے اختیارات قومی اسمبلی کے برابر ہوں گے۔ اس مذکرات کے لیے جو کمیٹی بنے گی میں اس کو قومی حکومت کہتا ہوں۔ ا س میں مولانا فضل الرحمن صاحب، میاں محمد نواز شریف صاحب ہوں گے۔ میری تو یہ رائے ہیں کہ میں جس نواز شریف کو میں جانتا ہوں وہ پریشان ہوں گے کہ یہ پاکستان کس طرف جارہا ہے، کرپشن انتہا کو پہنچ چکی ہے، اقربا پروری، میرٹ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے جو وفاداریاں بیچتا ہے، لوگوں کو گالیاں دیتا ہے وہ اچھا پاکستانی اور جو نہ خود بکتا ہے نہ لوگوں کو خریدتا ہے وہ بے ایمان اور اسے جیل میں ڈالوں یہ بالکل احمقانہ سوچ کے سوا کچھ نہیں۔ اس دنیا میں نواز شریف خوش نہیں ہوسکتا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ آئین پر عبدالولی خان، مفتی محمود صاحب، ذوالفقار علی بھٹو کے دستخط ہیں، ذوالفقار علی بھٹو کی تمام نتیجہ حکمرانی پر لوگ اعتراض کرتے ہیں لیکن ان کی حکمرانی کا سب سے بڑا تحفہ جو سب نے ملکر دیا وہ پاکستان کا آئین ہے۔ اب اسی آئین سے لوگ کلہواڑ کررہے ہیں اور یہی پارٹیاں انہیں سپورٹ کررہی ہیں اور یہ گناہ ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اگر وہ نشستیں مل جائیں جو آئین انہیں دیتا ہے آپ کون ہوتے ہیں کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ایک پارٹی سے ان کا الیکشن سیمبول چھین لیا۔ محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان کے بیٹے اپنے گھر، اپنے والدین کے پاس آسکتے ہیں اگر کئی جلوس جلسہ میں آئے تو کوئی گناہ کی بات نہیں۔لیکن ہم 25کروڑ عوام کیا کررہے ہیں ہمارے حقوق چھینے گئے، عزتوں کی تضحیک ہورہی ہے ساری دنیا میں جگ ہنسائی ہورہی ہے۔ اب بھی میں ایک بات کلیئر کرلو میں اور میری پارٹی کسی سے اس بات پر نفرت نہیں کرتے کہ آپ کا مذہب، مسلک، فرقہ، رنگ،نسل، زبان کیا ہے ہم انسانیت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس پارلیمنٹ سے یہ قرارداد آنی چاہیے تھی کہ ہم پاکستانی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں جائینگے غزہ میں قتل عام کے جرم میں نیتن یاہو پر کیس چلایا جائے اور اسے فارغ کردیا جائے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ہزاروں، لاکھوں کارکن نکلنے کے لیئے تیار ہیں۔27ویں آئینی ترمیم سے متعلق محمود خان اچکزئی نے سوال کے جواب میں کہا کہ موجودہ حکومت کی کوئی بھی ترمیم عوام کے قابل قبول نہیں،یہ حکومت عوام کی طاقت سے ہر غیر آئینی، غیر قانونی ترامیم کو واپس لینے پر مجبور ہوں گی۔ ایک پر امن، جمہور اور عوام کی حکمرانی،انسانوں کی عظمت کا انقلاب ضرور آئے گا۔ہمارے پڑوس میں افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہیں وہ کیاکچھ نہیں ہوا لیکن آج وہ سر اٹھاکر چل رہا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ فاٹا سمیت خیبر پشتونخوا،پشتو ن بلوچ صوبہ بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے قدرتی وسائل دیار غیر قبضہ کرنے کے خلاف جو ملک کے عوام اور اقوام کی امانت ہے کسی صورت پر انہیں قبضہ کرنے نہیں دینگے۔ فاٹا،دیر،وزیرستان سمیت ملک بھر میں جہاں بھی کوئی قدرتی نعمت نکل آتی ہے اس پر پہلا حق وہاں کے بچوں کا تسلیم کرنا ہوگا۔ ابھی ورلڈ بنک کی رپورٹ آئی ہے کہ پاکستان میں غربت کے لکیر کے نیچے آدھی آبادی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جب لوگ تنگ ہوں گے تووہ کچھ بھی کرنے پر مجبور ہوں گے پھر کسی کو بھی سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ محمود خان اچکزئی نے تحریک اعلان کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں انہیں سلوگن دینا ہوگا کہ آئین کی بالاستی، قانون کی حکمرانی، تمام ادارے اپنے آئینی فریم میں آزاد، میڈیا کی آزادی، تمام ترامیم واپس۔ چترال سے گوادر، پھر چمن،فاٹا سمیت تمام ملک میں اگر جمعہ والے دن نکلیں کہ آئین بحال کرو، قیدیوں کو رہا کرو، پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کرو۔ پاکستان میں ایک لاکھ سے زیادہ مساجد ہیں اگر دو سو لوگ بھی نکلتے ہیں تو یہ دو کرورڑ لوگ ہوگئے اس حکومت کی چھٹی ہوجائیگی۔ یہ جو حکومت ہے سب جانتے ہیں کہ کیا کررہے ہیں، رشوت لینا اور رشوت دینا یہاں حق بن چکا ہے، بلین روپے ہڑپ کیئے جارہے ہیں اور عمران خان جیل میں اس کا کیا گناہ ہے۔ میاں محمد نواز شریف سے لیکر عام آدمی تک سب کی ذمہ داری ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میری تجویز یہ ہے کہ نواز شریف صاحب ملک کی آئین کی بالادستی، ووٹ کو عزت دو، پارلیمنٹ کی خودمختار ی کا ایجنڈا لے آئے اس پر بات ہو کہ کیسا پاکستان ہوگا۔
عوام کو فیصلہ کن تحریک کیلئے نکلنا ہوگا، محمود خان اچکزئی

