خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما مولانا خان زیب اور پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ 3 افراد زخمی ہوگئے۔ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) باجوڑ وقاص رفیق نے بتایا کہ اے این پی رہنما مولانا خان زیب ’امن پاسون جرگے‘ کے سلسلے میں علاقے میں مہم چلا رہے تھے کہ شنڈئی موڑ کے مقام پر انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جس سے وہ جانبر نہ ہو سکے، جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی جاں بحق ہو گیا۔وقاص رفیق کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں 3 دیگر افراد بھی زخمی ہوئے، انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے اے این پی رہنما کو ٹارگٹ کر کے نشانہ بنایا، جائے وقوع سے مزید شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی کی ویب سائٹ کے مطابق مولانا خان زیب پارٹی کی مرکزی کابینہ کے رکن اور علما امور کے سیکریٹری کے عہدے پر فائز تھے۔ادھر، صدر اے این پی سینیٹر ایمل ولی خان نے مولانا خان زیب کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پارٹی اس واقعے پر ریاست کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرائے گی۔انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے اس واقعے میں ملوث ہیں کیونکہ انہوں نے مجرمانہ طور پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ایمل ولی خان کے مطابق مولانا خان زیب کے بڑے بھائی شیخ جہانزادہ سے مشاورت کے بعد ان کے قتل کی ایف آئی آر ریاست کے خلاف درج کرائی جائے گی۔ایمل ولی خان نے ایکس پر خان زیب کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ دل بہت زیادہ افسردہ ہے۔دوسری جانب، اے این پی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے واقعے کی شدید مذمت کی اور ایکس پر شیئر کردہ اپنے بیان میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، انہوں نے کہا کہ یہ حملہ صرف اے این پی پر نہیں بلکہ پشتون شعور اور امن اور مزاحمتی سیاست پر بھی حملہ ہے۔میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ اے این پی خیبر پختونخوا کی تنظیم صوبے میں 3 روزہ سوگ منائے گی، اس دوران تمام سرگرمیاں معطل اور سرنگوں پارٹی پرچم کے ساتھ سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے۔اے این پی صدر نے بتایا کہ وہ باجوڑ روانہ ہو رہے ہیں اور پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ حوصلہ، اتحاد اور تنظیمی نظم و ضبط کو برقرار رکھیں۔
باجوڑ، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے اے این پی رہنما سمیت 2 افراد قتل، 3 زخمی

