کوئٹہ(یو این اے )صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ و واسا سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقام پر سرکاری گاڑی کو پی ایچ ای سے قرار دیکر پروپیگنڈا کرنا افسوس ناک ہے، بغیر انکوائری کے ترجمان بلوچستان حکومت نے خبر چلا دی اور پھر بغیر تحقیق کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا مجھ سے یا میرے سیکرٹری سے اس حوالے سے پوچھا تک نہیں گیا جس گاڑی کا ذکر ویڈیو میں ہے وہ ریکو ہے جبکہ مانگی ڈیم پروجیکٹ کی گاڑی ریوو ہے اگر کسی نے ثابت کیا تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے دفتر سول سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری پی ایچ ای عمران گچکی و دیگر بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقام پر ایک گاڑی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی اگر وہ میری گاڑی ہوتی تو سب سے مجھ سے رپورٹ طلب کرنی چاہیے تھی اور جو گاڑی سیاحتی مقام سے ملی ہے اس پر نمبر پلیٹ بھی جعلی نصب ہیحالانکہ مانگی ڈیم پروجیکٹ کی گاڑیاں 2017 میں خریدی گئی تھی اور 2022 میں سرکاری پروجیکٹ کی 3 گاڑیوں کے نمبرز رجسٹرڈ کیے گئے تھے اور سرکاری گاڑی کا نمبر GBB938 ہے، جبکہ جس گاڑی کا سکینڈل بنایا گیا ہے وہ متبادل گاڑی ہے جس کا نمبر جعلی ہے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دوسرے سیکرٹریز کے بچے اور اہل خانہ سرکاری گاڑیاں استعمال نہیں کر رہے اور میرے ڈیپارٹمنٹ کو کیوں ٹارگٹ کیا گیا ہے سردار عبدالرحمن کھیتران نے مطالبہ کیا کہ اگر ترجمان حکومت بلوچستان نے جلد بازی میں غلط بیانات دیے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور تحقیقات کی جائیں، اگر وہ قصور وار ثابت ہوئے تو اپنے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔ اس معاملے کی صاف انکوائری کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آجائیں مانگی ڈیم شہدا کے خون سے بنایا جا رہا ہے پروپیگنڈا قابل مذمت ہے۔ صوبائی وزیر نے کہاکہ کوئٹہ شہر میں پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہے ہیں شہر کو مانگی ڈیم پانی فراہم کیا جا ئے گا مانگی ڈیم کوئٹہ کی تقدیر بدل دے گا کیونکہ یہ منصوبہ اپنے آخری مراحل میں مانگی ڈیم صرف مٹی کا بند نہیں بلکہ ہمارے سیکیورٹی فورسز کی شہادت کی میراث ہے جنہوں نے اس کی حفاظت میں اپنی جانیں قربان کیں۔
سرکاری گاڑی اسکینڈل بے بنیاد، ترجمان حکومت نے انکوائری کے بغیر بیان دیا، اگر الزام ثابت ہو جائے تو سیاست چھوڑ دوں گا، سردار عبدالرحمن کھیتران

