واشک(یو این اے)سابق صوبائی وزیر میر مجیب الرحمن محمد حسنی نے ضلع واشک کے مختلف علاقوں بسیمہ، ناگ، رخشان، گراڑی اور شرینزہ میں مون سون بارشوں اور طوفانی ہواں سے ہونے والی تباہی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام انتہائی کرب اور مشکلات سے دوچار ہیں انہوں نے کہا کہ بسیمہ کے علاقے درمن ندی میں ایک شخص کے سیلابی پانی میں ڈوبنے سے جاں بحق ہونے کی افسوسناک اطلاع ہے، جبکہ رخشاں گراڑی میں مویشی خانہ گرنے سے 30 سے زائد بکریاں ہلاک ہو گئیں۔ متعدد کچے مکانات کی دیواریں منہدم ہوگئیں، سینکڑوں سولر پلیٹیں طوفان میں ٹوٹ گئیں اور کئی سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔انہوں نے کہا کہ طوفانی بارشوں سے پیاز سمیت دیگر فصلیں مکمل زیر آب آ گئیں جس سے کسانوں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بندات کے ٹوٹنے سے زمینیں تباہ ہو گئیں اور زمینداروں کی سال بھر کی محنت ضائع ہو گئی انہوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ واشک کے متاثرہ علاقوں کو فوری طور پر آفت زدہ قرار دے کر ریلیف سرگرمیاں شروع کی جائیں متاثرین کو مالی امداد، خوراک، ادویات اور عارضی رہائش فراہم کی جائے تاکہ وہ اس مشکل گھڑی میں تنہا نہ رہیں۔انہوں نے کہا کہ واشک کے عوام مشکل میں ہیں ان کے ساتھ فوری عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہم اس کٹھن وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر فورم پر ان کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔دوسری جانب مون سون بارشوں کی مزید پیش گوئی بیلا کی مشرقی پٹی ایک اور ممکنہ سیلابی تباہی کے خطرے سے دوچارعلاقہ مکین شدید ممکنہ خطرات سے دو چار بڑے جانی و مالی نقصان کا خدشہ تفصیلات کے مطابق دریائے پورالی پر نرگ اور ہنجری کے درمیان حفاظتی بند ٹوٹنے کے قریب ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر سیلابی ریلا آیا تو نرگ کا پانی ہنجری کی جانب رخ کرے گا، جس سے ہنجری میں ایک بار پھر شگاف پڑ سکتا ہے۔اس ممکنہ صورتحال میں مشرقی پٹی کے تمام دیہات شدید متاثر ہوں گے، بالکل ویسے ہی جیسے 2022 کے تباہ کن سیلاب میں ہوئے تھے۔باعث تشویش امر یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ایریگیشن کی مبینہ غفلت و عدم توجہی کے باعث تاحال عوام کو ممکنہ سیلابی خطرات سے بچانے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ حفاظتی بند کی کمزوری اور بارشوں کی پیش گوئی کے باوجود، متعلقہ اداروں کی خاموشی عوامی تحفظ کے حوالے سے تشویشناک ہے۔اور مشرقی پٹی کے دیہاتوں کے مکین خوف و ہراس اور خطرات کا شکار ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ایری گیشن کے ذمہ داران صورتحال سے نمٹنے اور مکینوں کو ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچانے کیلئے فی الفور اقدامات کو یقینی بنائے تاکہ بہت بڑے جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ادھر قلعہ سیف اللہ شہر اور گردونواح میں تیز ہواں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی جس سے موسم خوشگوار ہو گیا، تاہم تیز ہواں کے باعث کئی علاقوں میں سولر پینلز اڑ گئے جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بارش سے بعض نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا جبکہ سرد ہواں سے درجہ حرارت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ عوام نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری بحالی کے اقدامات کیے جائیں۔
واشک ،قلعہ سیف اللہ اور بیلا میں طوفانی بارش، ایک شخص جاں بحق، فصلیں، مکانات و مال مویشی متاثر

