کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان ہائیکورٹ میں کراچی-کوئٹہ دو رویہ شاہراہ (N-25) منصوبے کے سلسلے میں دائر کردہ پٹیشن نمبر 230/22 کی سماعت کے دوران کانک ٹو کچلاک کوئٹہ بائی پاس کو منصوبے سے حذف کرنے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس محمد اقبال کاسی اور جسٹس محمد ایوب ترین پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں پٹیشنر الہی بخش مینگل ایڈووکیٹ کی جانب سے مقف اختیار کیا گیا کہ منصوبے کے نقشے سے بائی پاس کو نکال کر کسی دوسرے صوبے میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں اور بیس ارب روپے کی رقم کی منتقلی کی کوشش ہو رہی ہے۔عدالت نے این ایچ اے کے سکیورٹی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں کراچی کا ٹریفک لانے سے شہر پر ناقابل برداشت بوجھ پڑے گا اور عوام کا تین سے چار گھنٹے ضائع ہوں گے۔ عدالت نے حکومت بلوچستان کو سکیورٹی فراہم کرنے کا پابند کرتے ہوئے واضح کیا کہ کوئٹہ بائی پاس ہر حال میں بنایا جائے گا۔عدالت نے مرکزی ذمہ داران کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 جولائی تک ملتوی کر دی۔
کانک،کچلاک کوئٹہ بائی پاس کو منصوبے سے نکالنے پر بلوچستان ہائیکورٹ برہم

