کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ ایران کوئٹہ ابوالحسن میری نے منگل کو کویٹہ پریس کلب کا دورہ کرکیبلوچستان یونین آف جرنلسٹ اور کوئیٹہ پریس کلب کے نومتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان و ایران برادر اسلامی ممالک کے تعلقات کے فروغ میں میڈیا کا کلیدی کردار ہے۔خطے میں ہونے والی تبدیلیوں اور ایران و سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔پاک ایران بارڈرز پر دشمنوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہیاس ضمن میں سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے خاتمے کے لیے باہمی رابطے ضروری ہے۔ ڈی جی خانہ فرہنگ ایران نے تجویز پیش کی کہ کویٹہ پریس کلب اور خانہ فرہنگ ایران کوئیٹہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں تاکہ نہ صرف دونوں ممالک کے صحافیوں کے درمیان وفود کے تبادلے کیے جاسکیں بلکہ فارسی زبان کے کورسز اور خطاطی کے کلاسز میں میڈیا کے نمائندگان کی شرکت کو یقینی بنایا جاسکیں،ابوالحسن میری نے کہا کہ کویٹہ سے زاہدان اور مشہد کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی تاجروں اور سول سوسائٹی کا مطالبہ ہے۔ صدر کوئیٹہ پریس کلب عرفان سعید اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے صدر خلیل احمد نے ڈی جی خانہ فرہنگ ایران کوئٹہ ابوالحسن میری کے آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بھائی چارے اور ہمسائیگی کا رشتہ ہے۔تاجروں اور علماء کی طرح صحافیوں کے وفود بھی ایران بھجیوائے جائے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ پریس کلب کا ادبی تقریبات اور ثقافتی پروگرامات کے انعقاد کا ارادہ ہے اس حوالے سے خانہ فرہنگ ایران اور دیگر اداروں کے ساتھ روابط بڑھائے جائینگے،بلوچستان کے صحافیوں نے پاکستان ایران تعلقات کی بہتری میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔اس حوالے سے پاک ایران میڈیا کونسل کی تشکیل ضروری ہے تاکہ دونوں ممالک کے صحافی ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کرسکیں، اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ ایران کوئٹہ ابوالحسن میری نے کویٹہ پریس کلب کے صحافیوں کے لیے فارسی زبان اور خطاطی کے مفت کورسز شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی حجم کو مزید بڑھانے کے لیے لوگوں کی ذہن سازی اور مثبت رائے بنانے میں صحافیوں کے کردار سے انکار ممکن نہیں ہے، ہم نے ہمیشہ ایران میں بلوچستان و پاکستان کے مثبت امیج کو اجاگر کیا ہے،دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے وفود کے تبادلے ناگزیر ہے، انھوں نے کہا کہ غزہ کی جنگ میں اسرائیل و صہیونی میڈیا کے پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے حماس کی میڈیا نے فلسطینوں کی حقیقی آواز کو دنیا بھر میں اجاگر کیا ہے۔
پاکستان و ایران برادر اسلامی ممالک کے تعلقات کے فروغ میں میڈیا کا کلیدی کردار ہے،ابوالحسن میری

ٹیگز:
ابوالحسن میری
