کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے پوائنٹ آف آرڈر پر خطاب کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ ہمارے اکابرین اور جمعیت علمائے اسلام کے اراکین کو منصوبہ بندی کے تحت شہید کیا جا رہا ہے، مگر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔انہوں نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا قصور کیا ہے؟ کیوں ہمارے رہنماں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی عروج پر ہے اور حکومت کی ناکامی کے باعث امن و امان کی صورتحال بدتر ہو چکی ہے۔یونس زہری نے الزام عائد کیا کہ حکومت کو کرپشن کے علاوہ کچھ معلوم نہیں، امن و امان کے مسائل سے نمٹنے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر سال 85 ارب روپے فراہم کیے جاتے ہیں تو پھر امن و امان کیوں بحال نہیں ہو رہا؟اپوزیشن لیڈر نے ریاست سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے، بصورت دیگر ریاست کو بھی ان واقعات کا ذمہ دار سمجھا جائے گا۔ انہوں نے حکومت کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو وہ حکومت کے خلاف مزید سخت اقدامات اٹھائیں گے۔اس دوران ایوان میں اپوزیشن لیڈر یونس زہری اور صوبائی وزیر عبدالرحمن کھیتران کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، جس سے ماحول کشیدہ ہو گیا۔ تاہم، اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے صورتحال کو کنٹرول کیا۔اپوزیشن لیڈر کے خطاب کے بعد ایوان میں اپوزیشن اراکین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کرنے کی دھمکی بھی دی۔
جمعیت علمائے اسلام کے اراکین کو منصوبہ بندی کے تحت شہید کیا جا رہا ہے،میر یونس عزیز زہری

ٹیگز:
میر یونس عزیز زہری
