حب(ڈیلی گرین گوادر)حب، کوئٹہ کراچی شاہراہ پر تین دن سے جاری دھرنا صوبائی وزیر علی حسن زہری سے مذاکرات کے بعد ختم مظاہرین سے مذاکرات کامیاب،چار دن سے جاری احتجاج ختم،روڈ کو ٹریفک کے لئے بحال کردیا گیا, صوبائی وزیر زراعت میر علی حسن زہری کی مظاہرین کو یقین دھانی کرائی کےلاپتہ افراد کو بازیاب نہ کرا سکا تو میں خود آپ لوگوں کے ساتھ دھرنے میں بیٹھ جاونگا, لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی نے حب انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کرکے اپنے دھرنے کو ختم کردیا۔دھرنے میں لواحقین اور بلوچ یکجہتی کمیٹی نے حب انتظامیہ علی حسن زہری کو 15 دن کا الٹی میٹم کے ساتھ دھرنے اور لواحقین کے ڈیمانڈز سامنے رکھ کر دھرنا موخر کیا۔
مندرجہ ذیل پر مذاکرات ہوئے:
- جن لاپتہ افراد پر ایف آئی آر نہیں ہوا تھا۔ انکی ایف آئی آر کرلیگی۔
- دھرنے میں موجود منتظمین پر کوئی ایف آئی آر نہیں ہوگی۔
- ایک مہینے کے اندر دھرنے میں موجود لواحقین کے لخت جگر، نصیر جان، ندیم بلوچ، یاسر حمید، جنید حمید، احسان بلوچ، امین بگٹی اور ظفر بلوچ کو بازیاب یا منظر عام پر لایا جائیگا۔
- اگر دئیے گئے لسٹ میں سے کوئی بازیاب یا منظر عام پر نہیں آیا تو لواحقین کو یہ حق ہے کہ وہ دربارہ روڈ پر آکر دھرنا دیں۔

