کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان،آل پارٹیز کانفرنس اوردھرنا کمیٹی کے رہنماوں نے کہا ہے کہ 7روز گزرنے کے باوجود معصوم طالب علم مصور کاکڑ کی عدم بازیابی حکومت اور پولیس کی نا کامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، بچے کی عدم بازیابی کے خلاف 25نومبرکو بلوچستان بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔یہ بات پشتونخوانیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدرنصر اللہ زیرے،مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ،آل پارٹیز کے رہنماوں رشید خان ناصر، حاجی عبدالباقی کاکڑ، ملک امان اللہ کاکڑ، چنگیز حئی بلوچ ایڈووکیت، احمد جان، مولانا عبدالقادر لونی، غلام نبی مری، سید عبدالقیوم آغا، حاجی ملنگ خان، ولی افغان اور دیگر نے جمعرات کو اتحاد چوک میں لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر سہیل خان کاکڑ، حاجی محمد اختر کاکڑ، عبدالباقی کاکڑ، عیسیٰ خان روشن سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ مصور خان کاکڑ کو 7 روز گزرنے کے باوجود بازیاب نہ کرایا جاسکا جس کی وجہ سے ان کے اہلخاہ، عزیز و اقارب شدید اذیت سے دو چار ہے تا حال حکومت، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اس کی بحفاظت بازیابی میں ناکام نظر آرہے ہیں انہوں نے کہا کہ مصور خان کاکڑ کو 15 نومبر کی صبح گھر سے سکول جاتے ہوئے اغواء کیا گیا اسی روز سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور 16 نومبر کو احتجاج کیا گیا گزشتہ روز سکول کے بچوں نے بھی احتجاج کیا اور 19 نومبر کو کوئٹہ میں اس کی بازیابی کے لئے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی عدالت میں بچے کی بازیابی کیلئے آئینی پٹیشن دائر کی گئی جبکہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے از خود نوٹس لیا اور 28 نومبر کو دوبارہ سماعت میں حکام سے رپورٹ طلب کی ہے انہوں نے کہا کہ 7 روز گزرنے کے باوجود بچے کی بازیابی کو ممکن نہیں بنایا جاسکا جس کے خلاف آج بلوچستان کی تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں کے علاوہ مرکزی انجمن تاجران رجسٹرڈ بلوچستان، تاجر تنظیموں، چیمبر آف کامرس مختلف ٹریڈ یونینز، وکلاء برادری، ٹرانسپورٹرز نے اس احتجاج میں شریک ہوکر مذکورہ اہلخانہ کے غم میں برابر شریک ہوئے ہیں کیونکہ مصور خان کاکڑ کو سب نے اپنا بچہ سمجھا ہے لیکن حکومت اور پولیس، انتظامیہ تا حال اس کی بازیابی کو ممکن نہیں بنا سکی اور نہ ہی کوئی سراغ لگایا جاسکا ہے گزشتہ روز دھرنا کمیٹی اور آل پارٹیز کی میٹنگ ہوئی جس میں احتجاج کو وسعت دیتے ہوئے آج بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا جائیگا جبکہ 25نومبر کو بلوچستان بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی اس دوران کوئٹہ کراچی شاہراہ، کوئٹہ سبی جیکب آباد شاہراہ، کوئٹہ چمن شاہراہ، کوئٹہ ڑوب شاہراہ اور دیگر بین الاقوامی، بین الصوبائی شاہراہوں پر پہیہ جام ہڑتال ہوگی تمام ٹرانسپورٹرز، سیاسی جماعتیں اور عوام ہڑتال کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کریں ٹرانسپورٹروں سے ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نصر اللہ زیرے کی سربراہی میں رابطے کرے گی تاکہ ہڑتال کو کامیاب بنایا جاسکے اور آج نماز جمعہ کے خطبہ کے دوران علماء کرام مصور خان کاکڑ کی بازیابی کے حوالے سے خصوصی طور پر بات کریں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تا حال اغواء کاروں کی جانب سے اہلخانہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا حکومت فوری طور پر سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کریں تاکہ مصور کاکڑ کی بحفاظت بازیابی کو یقینی بناکر ان کے اہلخانہ میں پائی جانے والی تشویش ہوسکے۔
مصور خان کی عدم بازیابی کیخلاف 25نومبرکو بلوچستان بھر میں پہیہ جام ہڑتال ہوگی،نصراللہ زیرے، عبدالرحیم کاکڑ

ٹیگز:
مصور خان
