کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین کا سرحدی تجارت کی بندش کے خلاف احتجاج اور واک آؤٹ۔ پیر کو بلو چستان اسمبلی کا اجلاس 50منٹ کی تاخیر سے اسپیکر بلو چستان اسمبلی عبد الخالق اچکزئی کی صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں اپوزیشن اراکین اسمبلی نے بارڈر ٹریڈ کی بندش کے خلاف احتجاجاً پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، بلو چستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سربراہ و رکن بلو چستان اسمبلی میر اسد اللہ بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈرپر اظہا رخیال کر تے ہوئے کہا کہ بارڈر ٹریڈ کی بندش سے لاکھوں افراد متاثر ہورہے ہیں پوری دنیا میں بارڈرٹریڈ ہوتی ہے بارڈر مقامی لوگوں کا ذریعہ معاش ہے پاک ایران وافغان بارڈر پر رہنے والوں کے کاروبارمشترکہ ہے اور رشتہ داریاں ہیں ریاست بارڈر ٹریڈ کے حوالے سے اپنی پالیسی واضح کرے حکومت بارڈر ٹریڈ کا متبادل بتائے اس روزگار کو اسمگلنگ کانام دیاجارہا ہے یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے حکومت انتشار کا ماحول پیدا نہ کرے بلکہ روزگار کے ذرائع فراہم کرے۔ جماعت کے اسلامی کے صوبائی امیر و رکن بلو چستان اسمبلی مولاناہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ چمن سے لیکر ایران تک بارڈر پر رہنے والے اسمبلی میں موجود ہیں ہم پر ایٹم بم پھینک دیں تاکہ حکومت کی جان چھوٹ جائے بارڈر ٹریڈ کی بندش بلوچستان دشمنی ہے بلوچستان کے لوگوں کو غلام سمجھاجارہاہے اسلام آبادکے حکمران بلوچستان کے ساتھ دشمنی چھوڑ دیں مولانا ہدایت الرحمن نے بارڈرٹریڈ کے خلاف پلے کارڈ اسپیکر کوتھامایاجس پر اسپیکر عبد الخاق اچکزئی نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعلی میر سر فراز بگٹی کو آنے دیں تب جاکر بارڈر ٹریڈ پر متفقہ لائحہ عمل طے کریں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رکن بلو چستان اسمبلی زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ ایران سے سستا پٹرول ملتاہے تو سعودی عرب سے کیوں منگواجاتاہے حکومت بارڈرٹریڈ کے حوالے سے اپنی پالیسی بنائے تاکہ لوگوں کو روزگار مل سکے بارڈر کی بندش سے مقامی لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں انٹر نیشنل قانون کے مطابق بارڈر ٹریڈ کا مسئلہ حل کریں منشیات اوردہشت گردوں کی کبھی حمایت نہیں کرتے لیکن اپنے لوگوں کے حقوق کے لئے لڑیں گے،اپوزیشن اراکین نے بارڈر ٹریڈکی بندش کے خلاف ایوان سے واک آوٹ کا کہا جس پر اسپیکر نے ریمارکس دیئے کہ اگراپوزیشن جاناچاہتی ہے تو خوشی سے جائیں جس پر اپوزیشن اراکین نے احتجاجاً ایوان سے واک آوٹ کیا۔صوبائی وزیر پی اینڈ ڈی میرظہوراحمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی آدھی آبادی کا گزر بسر بارڈر ٹریڈ پر ہے حکومت عوام کے روزگارکی بندش کے خلاف نہیں کچھ قدغنیں ہیں جو وزیراعلی بلو چستان کے آنے پر دور کی جائیں گی بلوچستان جل رہاہے اس وقت صوبے میں دہشت گردی کی لہر آچکی ہے اراکین اسمبلی ہر چیز کو ریاست نہ جوڑیں وہ سنجیدگی کامظاہرہ کریں جہاں تک لوگوں کے روزگار کاسوال ہے ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بے روزگارہو ہم اپنے عوام کا مستقبل تاریک نہیں کرناچاہتے ہیں اگر ہمسائیہ ممالک اپنی سرحد بند کردیں تو کیاکریں گے صوبے میں بے روزگارنوجوانوں کی تعداد 20 لاکھ ہے کوشش کریں گے کہ حالات کو دیکھ کر بارڈرٹریڈ کے حوالے سے حکمت عملی طے کریں گے۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین کا سرحدی تجارت کی بندش کے خلاف احتجاج اور واک آؤٹ

ٹیگز:
بلوچستان اسمبلی
