کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہا ہے کہ چمن دھرنے کے شرکاء کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کئے جائیں،پشتونوں کو اپنے ذاتی اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پشتون عوام کے مسائل کے حل کیلئے کردا رادا کرنا ہوگا۔یہ بات انہوں نے بدھ کو بلوچستان امن جرگے کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ملاقات کرنے والے چمن کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔لالہ یوسف خلجی نے کہاکہ چمن پاک افغان بارڈر کے دونوں جانب آباد پشتونوں کی آپس میں رشتہ داریاں اور لاکھوں کی تعداد میں دونوں جانب آباد لوگ کاروبار کیلئے روزانہ کی بنیاد پر پاکستان اورافغانستان آتے جاتے ہیں نگران وفاقی حکومت کی جانب سے بارڈر کے دونوں جانب آباد پشتونوں کیلئے پاسپورٹ کی شرط عائد کرنا کسی بھی طرح درست اقدام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ کی شرط عائد کرنے کے خلاف چمن کے شہری گزشتہ 32دنوں سے پرامن دھرنا دیئے بیٹھے ہیں لیکن تاحال انکے جائز مطالبات ابھی تک حل نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کو اسلام اور مذہب کے نام پر استعمال کرنے والے علماء کرام کو اسوقت جو کردار کرنا چاہئے تھے وہ بھی اپنا مثبت کردارادا کرنے میں ناکام رہے ہیں جس سے پشتون عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوں کو آپس کے ذاتی اورسیاسی اختلافات کو بالائے طارق رکھ کر پشتون قوم کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھاہوناچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان امن جرگہ نگران وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ چمن بارڈر پر پاسپورٹ کی شرط عائد کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے اور د ونوں جانب آباد پشتونوں کوشناختی کارڈ پر آنے اورجانے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان امن جرگے کے زیراہتمام جمعہ 24نومبر کو دوپہر 3بجے افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی اور چمن دھرنے کے شرکاء کے مطالبات کے حق میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
چمن دھرنے کے شرکاء کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کئے جائیں، لالہ یوسف خلجی

ٹیگز:
لالہ یوسف خلجی
