کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) نگران صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر امیر محمد جوگیزئی نے کہا ہے کہ دیہی علاقوں میں ورٹیکلز پروگرام کی مدد سے ہیلتھ سسٹم کو مضبوط بنانا ہوگا،لوگ سرکاری اسپتالوں میں بہتر علاج معالجے کی امیدیں لیکر آتے ہیں عوام ناامید و مایوس لوٹ جائیں تو ہمیں اپنی سیٹوں پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں،مریضوں کو بہتر سے بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے طبی اقدامات کو بہتر سے بہتر بنا کر عوام کی امیدوں کو پورا کرنا ہمارا فرض ہے۔ صحت کے شعبے میں دستیاب وسائل کو درست سمت میں زیر استعمال لاتے ہوئے تمام ہسپتالوں میں بہتری لائی جا رہی ہیں اور تمام مسائل بتدریج حل کئے جائیں گے۔ ہر فردکو بلا امتیاز علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔اپنے جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ لوگ سرکاری اسپتالوں میں بہتر علاج معالجے کی امیدیں لیکر آتے ہیں، عوام ناامید و مایوس لوٹ جائیں تو ہمیں اپنی سیٹوں پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں۔ ماتحت اسٹاف سے لیکر اعلی افسر تک ہیلتھ کے ملازمین عوام کے خدمت گار ہیں تفویض شدہ ذمہ داریوں سے عدم توجہی نا قابل برداشت ہے۔عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں عوامی خدمت میں کوئی رکاوٹ قابل قبول نہیں۔صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے اقدامات کے ثمرات براہ راست عام آدمی تک پہنچیں گے۔صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی ہمارا نصب العین ہے اور ہم سب کو انہی دستیاب وسائل کو بہتر طور پر استعمال میں لاتے ہوئے انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر کام کرنا ہوگا۔ ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کا متواتر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ٹیم ورک کی صورت میں مل کر کام کرنا ہے تاکہ محکمہ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے اصلاحات کا تسلسل ضروری ہے۔ کمیٹی (ڈی۔پی۔ای۔سی) کا اجلاس منعقد کیا گیا۔اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر فیاض احمد مستوئی، ڈی ایس پی غلام محمد کھوسہ اسسٹنٹ کمشنر ہرنائی فہد شبیر چیمہ، ورلڈ ہیلتھ ارگنائزیشن کے ڈاکٹر عالمگیر زرکون، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر مسعود احمد اور دیگر محکموں کے افسران، محکمہ صحت کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک موذی مرض ہے۔جس کا معاشرے اور نوجوان نسل پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس وائرس سے انسان پوری زندگی ذہنی و جسمانی لحاظ سے متاثر ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مرض کی خاتمے کیلئے طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی ہے جس کیلیے سال میں کئی دفعہ پولیو کے خاتمے کے قطرے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پلائے جاتے ہیں تاکہ ملک کو اس مرض سے پاک کیا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر محمد جاوید ڈومکی نے کہا کہ پولیو مہم کے دوران سیکورٹی خدشات و دیگر چیلنجز کے باوجود ضلعی انتظامیہ اپنی تمام تر ذمہ داریاں پوری کرتی رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انے والے پولیو مہم کو بھی حسب سابق ایک منظم منصوبے اور حکمت عملی کے تحت کامیاب کیا جائیگا۔ اور اس کیلیے باقاعدہ ٹیمیں تشکیل دی جائیگی جو شہر کے کونے کونے اور دورافتادہ علاقوں تک پہنچ کر بچوں کو پولیو کی روک تھام کے قطرے پلائے جائینگے۔ اور اس پورے مہم کے دوران ضلعی انتظامیہ ٹیموں کی نگرانی و مانیٹرنگ کی ذمہ داریاں سرانجام دیگی۔ تاکہ تمام بچوں کو پولیو کی روکتھام کے قطرے پلائے جا سکیں۔
دیہی علاقوں میں ورٹیکلز پروگرام کی مدد سے ہیلتھ سسٹم کو مضبوط بنانا ہوگا، ڈاکٹر امیر محمد جوگیزئی

ٹیگز:
ڈاکٹر امیر محمد جوگیزئی
