کابل (ڈیلی گرین گوادر) بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی نے افغانستان میں آئندہ سیلابوں کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حالیہ سیلاب کے متاثرین کے لیے اپنی امداد میں تیزی لا رہی ہے۔ صرف کابل، میدان وردک اور لوگر صوبوں میں 1,200 خاندان پہلے ہی بے گھر ہو چکے ہیں۔طالبان حکومت کے آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران افغانستان کے چودہ صوبوں میں تقریباً پچاس افرادجاں بحق اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا ہے۔
دوسری جانب طالبان حکومت کے تحت بجلی اور پانی کی وزارت نے اگلے دو دنوں میں شدید بارشوں، سیلاب اور دریاؤں کے پانی کی سطح میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے اور دریا کے کناروں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کو کہا ہے۔گذشتہ چند ہفتوں میں بالخصوص افغانستان کے وسطی صوبے شدید سیلاب کی زد میں آئے۔ انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب بننے والے ان سیلابوں نے پورے خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
اس ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین خطرہ ہے جس نے میدان وردک اور لوگر جیسے صوبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جہاں کے عوام کا بہت زیادہ انحصار زرعی مصنوعات پر ہے اور انہیں پہلے ہی بہت سے دیگر چیلنجز کا سامنا ہے۔
آئی سی آر سی کے مطابق، ان سیلابوں نے مذکورہ علاقوں میں بہت سے مکانات کو تباہ اور بہت سے لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے علاقے میں خوراک اور رہائش کی شدید ضرورت پیدا ہو گئی ہے۔ایجنسی نے کہا کہ وہ اپنے امدادی کام کو تیز کر رہا ہے اور بین الاقوامی عطیہ دہندگان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مالی امداد میں سب سے زیادہ کمزور ممالک کو نہ بھولیں۔
اس ایجنسی کی ایشیائی شاخ کے ہنگامی امور کے سربراہ محمد ریاض نے کہا کہ میدان وردگ اور لوگر صوبوں میں کمیونٹیز کو ان سیلابوں کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے، جب کہ آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کی توقع ہے، اس لیے فوری توجہ اور مدد کی درخواست ہے۔طالبان حکومت کے آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ترجمان شفیع اللہ رحیمی نے بھی کہا تھا کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران افغانستان کے چودہ صوبوں میں سیلاب کی وجہ سے کم از کم 48 افراد ہلاک اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے۔

