تربت ہ(ڈیلی گرین گوادر)مجلس فکر و دانش اور پیس اینڈ ایڈوکیسی کلب یونیورسٹی آف تربت کے مشترکہ تعاون سے یونیورسٹی کے ویڈیو کانفرنس روم میں جدید معاشی و سائنسی بیانیہ اور قرآنک فریم ورک کے موضوع پر ایک ڈائیلاگ اور مکالمہ کا اہتمام کیاگیا۔ مجلس فکر و دانش کے نمائندوں اورجامعہ تربت کے فیکلٹی ممبران اور طلبہ وطالبات نے ڈائیلاگ سیشن میں شرکت کی۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کردار، عقیدہ، سائنسی و معاشی بیانیہ اور عصرحاضرکی ضروریات اور چیلنجز پر ایک علمی مطالعہ پیش کرتے ہوئے اکیسویں صدی کے معروف مصنف و دانشور اور تھنک ٹینک کے چیئرمین ڈاکٹر محمد عارف خان نے کہا کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ علم کی تقسیم ہوتی گئی اور علم کی تقسیم اورڈسٹریبیوشن سے علم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ اسے مزید وسعت ملی۔ سیشن کے دوران نیواکنامک آرڈرکے تناظرمیں پاکستان اور باقی دنیا کو درپیش سماجی اور معاشی چیلنجز پر بھی بحث ومباحثہ کیا گیا۔ اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مجلس فکر و دانش کے سربراہ عبدالمتین اخونزادہ نے کہا کہ مجلس فکر و دانش کوئٹہ میں قائم ایک آزاد تھنک ٹینک اوراپنی مددآپ کے تحت چلنے والا ادارہ ہے جو کہ ایک تعمیری ماحول کی تشکیل اورتعبیرنوکے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جان محمد کی قیادت میں تربت یونیورسٹی کی تیزرفتار ترقی اورطلبہ وطالبات کویونیورسٹی میں بہترین تعلیمی اور تحقیقی ماحول کی فراہمی کو سراہا۔سیشن کے فوکل پرسن اور پیس اینڈ ایڈووکیسی کلب یونیورسٹی آف تربت کے انچارج چنگیز احمد نے اپنے استقبالیہ اور اختتامی کلمات میں جامعہ تربت میں ڈائیلاگ سیشن کے اہتمام اور شرکت پر مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا
جامعہ تربت میں جدید معاشی و سائنسی بیانیہ اور قرآنک فریم ورک کے موضوع پر ڈائیلاگ سیشن کا اہتمام

ٹیگز:
جامعہ تربت
