کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان ہائیکورٹ نے معذور افراد کے حقوق کے تحفظ، مالی و تعلیمی معاونت، صحت کی سہولیات، ملازمتوں میں معذوری کوٹے اور دیگر قانونی مراعات پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ حکام سے جامع رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عدالت نے بلوچستان پرسنز ود ڈس ایبلٹیز سپورٹ فنڈ (کمک) کی پالیسی اور فنڈز کی تقسیم کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ معذور افراد ایکٹ 2007ء کی دفعات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابلِ عمل تجاویز پیش کی جائیں۔چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے آئینی درخواست نمبر 1422/2024 کی سماعت کے دوران حکم دیا کہ درخواست گزاروں کے وکلاء دو ہفتوں کے اندر اپنی جامع تجاویز ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے دفاتر کے ذریعے پیش کریں، جس کے بعد متعلقہ حکام ان تجاویز کی روشنی میں نظرثانی شدہ رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔سماعت کے دوران کمک پروگرام کے پروگرام ڈائریکٹر کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمک پالیسی 2025ء کے تحت معذور افراد کو تعلیمی معاونت، کاروبار کے لیے مالی مدد، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، بحالی کی سہولیات اور معاون آلات کی فراہمی سمیت مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پروگرام کے تحت اب تک تقریباً 34 ہزار معذور افراد رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جبکہ فنڈ کا ابتدائی سرمایہ تین ارب روپے ہے اور متوقع ماہانہ آمدن تقریباً 27 ملین روپے بتائی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق کمک کونسل پروگرام کی نگرانی اور انتظامی امور کے لیے قائم کی گئی ہے، جس کے چیئرپرسن صوبائی وزیر برائے سماجی بہبود ہیں اور کونسل میں زیادہ سے زیادہ آٹھ ارکان شامل ہیں۔ پروگرام کے تحت 18 سال سے کم عمر معذور افراد کو ماہانہ چھ ہزار روپے جبکہ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو آٹھ ہزار روپے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔رپورٹ میں فنڈز کی تقسیم کی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 38 فیصد رقم باقاعدہ ماہانہ مالی معاونت، 7 فیصد تعلیمی وظائف، 25 فیصد معاون آلات، 5 فیصد فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور 20 فیصد بلا سود روزگار قرضوں کے لیے مختص ہیں۔ معاون آلات میں الیکٹرک وہیل چیئرز، ٹرائی موٹر سائیکلیں، اسکوٹیز، واکرز، بیساکھیاں، سماعت کے آلات، مصنوعی اعضا اور سفید چھڑی سمیت دیگر ضروری سہولیات شامل ہیں۔درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والی وکلاء انعم خیر ایڈووکیٹ اور متعلقہ آئینی درخواست نمبر 1647/2025 کے درخواست گزار کے وکیل محمد اکرم شاہ ایڈووکیٹ نے رپورٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی معاونت کے لیے صرف سات فیصد رقم مختص کرنا ناکافی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ رپورٹ میں صحت کی سہولیات، نجی ہسپتالوں میں معذور افراد کے لیے 50 فیصد رعایت اور قانون کے تحت فراہم کردہ دیگر حقوق و مراعات کا مناسب احاطہ نہیں کیا گیا۔عدالت کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں معذور افراد کی حقیقی مجموعی تعداد تاحال معلوم نہیں، جبکہ کمک پروگرام کے بارے میں مؤثر تشہیر نہ ہونے کے باعث بہت سے مستحق افراد رجسٹریشن اور دستیاب سہولیات سے محروم ہو سکتے ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکلاء کے مطابق مختلف شعبوں کے لیے مختص رقوم بھی معذور افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی دکھائی دیتی ہیں۔اس موقع پر محکمہ سماجی بہبود، حکومت بلوچستان کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر وسیم اکرم نے مؤقف اختیار کیا کہ صحت سے متعلق مالی معاونت کے لیے بلوچستان عوامی ہیلتھ انڈوومنٹ فنڈ بھی موجود ہے، جو صحت کے شعبے میں مستحق افراد کی مدد کے لیے کام کرتا ہے۔عدالت نے معذور افراد کے حقوق کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ محکموں اور اداروں کے نمائندوں کو بھی آئندہ کارروائی میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔ ان میں پرائیویٹ ہسپتال ریگولیٹری اتھارٹی، محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی، محکمہ اسکول ایجوکیشن، کالجز و ہائر ایجوکیشن، ٹرانسپورٹ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور لوکل گورنمنٹ کے حکام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ریلویز کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ، سول ایوی ایشن اتھارٹی کوئٹہ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے متعلقہ افسران کو بھی طلب کیا گیا ہے۔عدالت نے ہدایت کی کہ متعلقہ حکام معذور افراد کے لیے عمر میں رعایت، سرکاری ملازمتوں میں مقررہ معذوری کوٹے، نجی ہسپتالوں میں رعایت، تعلیم، نقل و حمل اور دیگر قانونی سہولیات سے متعلق اقدامات اور ان پر عملدرآمد کی تفصیلات پیش کریں۔ ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے دفاتر کو حکم کی نقول متعلقہ حکام تک پہنچانے اور ان کی حاضری یقینی بنانے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 نومبر 2026ء تک ملتوی کردی۔
بلوچستان ہائیکورٹ کا معذور افراد کے حقوق اور قانونی مراعات پر عملدرآمد سے متعلق جامع رپورٹ طلب کرنے کاحکم

ٹیگز:
بلوچستان ہائیکورٹ
