کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بلوچستان کے حالات کا خیبرپختونخوا سے موازنہ کرنے اور مولانا فضل الرحمان کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان سے متعلق گمراہ کن بیانات دیے جا رہے ہیں۔ حکومت بلوچستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے اور موجودہ حالات میں ریاست کا ساتھ دینا ناگزیر ہے۔کوئٹہ میں معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ بلوچستان کا خیبرپختونخوا سے موازنہ درست نہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتی رہی ہے، اس لیے ان کی جانب سے بلوچستان اور سکیورٹی فورسز پر تنقید قابلِ مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کو حکومت کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر خیبرپختونخوا حکومت قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے وفاقی حکومت اور سکیورٹی فورسز کا ساتھ دیتی تو ایمرجنسی کی ضرورت پیش نہ آتی۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ تمام قوتیں ریاست کے ساتھ کھڑی ہوں تاکہ ملک کو مشکلات سے نکالا جا سکے۔معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ منظور نہ ہونے کے باعث حکومت ختم ہونے کا تاثر درست نہیں۔ بلوچستان میں اس قانون کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف قانون سازی وزیراعلی نے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر کی۔ گزشتہ دو برس کے دوران حکومت نے سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کیں۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے کے پس منظر میں وزیراعلی کی جانب سے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں، جبکہ بلوچستان کے وزیراعلی کی جانب سے ایسے مارچ کی بات نہیں کی گئی۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے صوبے میں امن و امان کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پہلا صوبہ ہے جہاں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 18 قوانین منظور کیے گئے اور 17 محکمے قائم کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ فیس لیس عدالتیں قائم کی گئی ہیں، جہاں 90 افراد کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔حمزہ شفقات کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران 60 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں، چھاپے اور دیگر اقدامات کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں 450 دہشت گرد گرفتار جبکہ 1100 ہلاک کیے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس عرصے میں پولیس سمیت سکیورٹی فورسز کے 300 سے زائد افسران اور اہلکار شہید ہوئے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں 551 بے گناہ افراد جان سے گئے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ صوبے سے 11 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس بھیجا گیا ہے، قومی شاہراہوں پر سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور محکمہ داخلہ کو ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے۔ اسلحہ لائسنسوں کا نظام بھی ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے۔پریس کانفرنس میں صوبائی حکام نے دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام کے لیے سکیورٹی اداروں اور حکومت کے درمیان تعاون جاری رکھنا ضروری ہے۔
بلوچستان کا خیبرپختونخوا سے موازنہ درست نہیں، مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی دہشت گردی کا نشانہ بنتی رہی ہے، صوبائی وزیر داخلہ

ٹیگز:
صوبائی وزیر داخلہ
