اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ انہیں متنازع بیان دینے کا ’کوئی شوق نہیں‘، وہ ’اصلاح کی نیت سے تنقید‘ کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں۔وہ جے یو آئی کے مرکزی رہنما بلال میر کے بھائی کے انتقال پر تعزیت کرنے کے لیے لاہور میں موجود تھے۔
اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کے دوران ان سے سوال کیا گیا ہے فیصل واوڈا کے بیان کے بعد آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پنجاب یا سندھ میں بھی گورنر راج لگے گا؟ اس پر مولانا نے واضح کیا کہ ”مسئلہ بنیادی یہ نہیں ہے کہ وہاں بھی ایمرجنسی لگے گی، وہاں بھی لگے گی تو ہم وہاں بھی اختلاف رائے کریں گے۔“
انہوں نے کہا ہے کہ بنیادی بات یہ ہے کہ سپریم کون ہے؟ کیا پارلیمنٹ سپریم ہے؟ تو پھر فیصلے پارلیمنٹ کرے نہ کہ کہیں اور فیصلے کرکے انہیں پارلیمنٹ پر مسلط کیا جائے۔خود پر دہشت گردوں کے حامی ہونے کے الزامات کے سوال کے جواب پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وہ خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں اور انہوں نے کبھی دہشت گردی کی حمایت نہیں کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں ’مولانا فضل الرحمان جیسے سینئر سیاستدان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں‘، پر ’دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت‘ کرنے کا الزام لگایا تھا۔مولانا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ”دہشت گردی کے ماحول میں جے یو آئی کے ڈھائی سو علماء اور کارکن شہید ہوئے ہیں۔ اس طرح کے بیان دینا کسی پارٹی کی ملک اور عوام کے لیے قربانیوں کا مذاق اڑانا ہے، کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے یا اسے یہ بات جچتی ہے کہ وہ ملک کے وفادار لوگوں کی قربانیوں کا مذاق اڑائیں؟“
یاد رہے کہ مولانا نے خود جولائی میں شہدا کی قربانیوں پر ایک متنازع بیان دیا تھا جس پر ملک بھر کی سیاسی قیادت نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان نے یہ بیان واپس لینے کی اپیل کی تھی۔اس پر مولانا نے آج کی میڈیا ٹاک میں اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم قربانیوں کا مذاق نہیں اڑا رہے ہیں، ہم ان کی پالیسیوں پر بات کر رہے ہیں، ایک پارٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کے کسی فیصلے پر اصلاح کی نیت سے تنقید کرے کہ یہ غلطی کیوں ہو رہی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر ان کو ایسی گفتگو نہیں چاہیے تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے کہ ہم ایسی گفتگو کریں جس سے ملک میں ایسی بحث چھڑ جائے اور اپنے ہی اداروں اور جوانوں کی قربانیوں کو متنازع بنانے کی کوشش کی جائے۔“انہوں نے کہا کہ ان کی تنقید ریاستی اداروں پر نہیں بلکہ ان پالیسیوں پر ہوتی ہے جن کے بارے میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کے مفاد میں نہیں ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت عوام سے دہشت گردی کے خلاف ساتھ دینے اور اس جنگ میں شریک ہونے کا مطالبہ کرتی ہے تو کیا اسے عوام کو صورتِ حال سے آگاہ نہیں کرنا چاہیے؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی بنانی ہے تو پارلیمان کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے، تمام متعلقہ فریقوں اور صوبوں کو اعتماد میں لیا جائے اور مشترکہ تجاویز کی بنیاد پر پالیسی مرتب کی جائے۔

