کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان ہائی کورٹ میں سرکاری ڈاکٹروں کی پرائیوٹ پریکٹس کے خلاف آئینی درخواست دائر کر دی گئی۔ یہ پٹیشن معروف قانون دان ایڈووکیٹ نرگس سمالانی کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں چیف سیکریٹری بلوچستان، سیکریٹری صحت بلوچستان اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار کا مقف ہے کہ سرکاری ملازمین کو قانون کے مطابق پرائیویٹ پریکٹس یا کاروبار کی اجازت نہیں، تاہم کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں تعینات سرکاری ڈاکٹرز نجی طور پر کلینک اور ہسپتال چلا رہے ہیں، جو کہ صریحا قانون اور سروس رولز کی خلاف ورزی ہے۔پٹیشن پر بلوچستان ہائیکورٹ کے معزز قائم مقام چیف جسٹس جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار حلیمی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے حکومت بلوچستان کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں اور وضاحت طلب کی ہے کہ سرکاری ڈاکٹروں کو کس قانون کے تحت نجی پریکٹس کی اجازت دی گئی ہے۔درخواست کی پیروی سینئر ایڈووکیٹ محمد ریاض احمد اے ایس سی کر رہے ہیں، جنہوں نے عدالت کے روبرو مقف اختیار کیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی اور ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کا براہ راست تعلق ان کی نجی مصروفیات سے ہے، جس کا نقصان عوام الناس کو ہو رہا ہے۔پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ عوامی مفاد اور طبی شعبے میں نظم و ضبط کی بحالی کے لیے سرکاری ڈاکٹروں کی پرائیوٹ پریکٹس پر فوری اور مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ وہ اپنی تمام تر توجہ سرکاری فرائض کی انجام دہی پر مرکوز رکھ سکیں۔
کوئٹہ،سرکاری ڈاکٹروں کی نجی پریکٹس روکنے کیلئےبلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر

