کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)امیر جماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہاکہ پرامن احتجاج کا راستہ،قانونی تجارت کیلئے بھی بارڈرزبندکرنا،قانونی تجارت والوں سے بھی چیک پوسٹوں پر رقم طلب کرنا،قانونی دستاویزات رکھنے کے باوجودتذلیل کی وجہ سے آج بلوچستان کے اہل پڑھے لکھے نوجوان بھی مایوس ہیں اور بغاوت پر مجبورہیں اس کی اصل وجہ ریاستی ظلم،بدعنوانی اور ناانصافی ہے ظالموں لٹیروں عوام وریاست دشمنوں نے ان کے پیاروں کو لاپتہ کرکے پرامن جمہوری احتجاج کرنے والوں کو بھی دیوارسے لگاکر مایوس کردیا۔ آج ہماری مائیں اور بہنیں نہ صرف سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہیں بلکہ جیلوں میں قید ہیں جو کہ ایک شرمناک عمل ہے۔ جماعت اسلامی اس ظلم کی شدید مذمت کرتی ہے اور حکومت سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ مزید نفرت انگیز اقدامات سے گریز کرے، بلوچستان کی تمام ماؤں، بہنوں کو فی الفور رہا اور لاپتہ افراد کو بازیاب،بارڈرزکھول دیاجائے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جماعت اسلامی مستونگ کے زیر اہتمام ورکرزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا کنونشن سے ڈپٹی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی بلوچستان پروفیسر سلطان کاکڑ، امیر جماعت اسلامی مستونگ حافظ خالد الرحمن شاہوانی، امین جمعیت طلبہ عربیہ بلوچستان صفی اللہ شاہوانی، میر احمد مہربان مینگل، ماسٹر بھاول نسیم سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔خطاب کے دوران مقررین نے بلوچستان میں جاری ظلم، جبر اور محرومیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی روزِ اوّل سے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے حکمرانوں نے بلوچستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے بجائے چیک پوسٹوں، گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کا تحفہ دیا ہے۔ روزگار کے دروازے بند کر کے نوجوانوں کو پہاڑوں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جو خطرناک نتائج کا پیش خیمہ بن رہا ہے۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچستان کے نوجوان تاجر بے روزگار ہیں سرکاری ملازمتوں سے نوجوانوں کو زبردستی نکالاجارہا ہے روزگار برائے فروخت ہیں اہلیت ومیرٹ کے بجاے سفارش اور رشوت پر نوکری دی جاتی ہیں حقوق کیلئے اورظلم وناانصافی کے خلاف آوازبلند کرنے والوں کو پابند سلاسل یا پہاڑوں کی طرف دھکیلاجارہاہے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر نے نوجوانوں کے لیے گوادر سے چمن تک تمام سرحدی راستے روزگار کے لیے کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو باعزت روزگار دینا،قانونی تجارت کیلئے بارڈر کھولنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔کنونشن کے آخر میں مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مستونگ کے عوام سے اپیل کی کہ آپس کی چپقلش چھوڑ کر ظالم حکمرانوں کے خلاف متحد ہوں اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں تاکہ ایک باعزت، خودمختار اور پرامن بلوچستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔
جماعت اسلامی روزِ اوّل سے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑی ہے،مولانا ہدایت الرحمان بلوچ

