نو شکی (ڈیلی گرین گوادر) جمعیت علماء اسلام کے رہنما ء سابق صوبائی وزیر حاجی میر غلام دستگیر بادینی نے اپنے بیان میں کہاہے کہ حکومت کی جانب سے بلوچستان میں باڈر ٹریڈ کی بندش کی کوشش کسی صورت بلوچستان اور یہاں کے غریب عوام کی حق میں بہتر فیصلہ نہیں ہے حکومت قدغن لگانے کی بجائے بلوچستان سے متصل ایران اور افغانستان باڈر سے ہونے والی کاروبار کو قانونی شکل دیں کر باقاعدہ ٹیکس وصول کریں جس سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا فائدہ ہوگا اور اندروں بلوچستان چیک پوسٹوں پر بھتہ خوری بھی کم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں ہزاروں افراد باڈر ٹریڈ سے منسلک ہیں جو انتہا مشقت برداشت کرکے اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کما رہے ہیں آگر حکومت نے باڈری کاروبار کو بند کی تو نہ صرف یہ تمام افراد بیروزگار ہوں گے بلکہ اس سے بلوچستان کے ٹرانسپوٹرز تاجر برادری عام دکاندار سمیت ہر طبقہ فکر کے لوگ متاثر ہوں گے بلوچستان میں بدامنی کی ایک بڑی وجہ بیروزگاری ہیں اگر بیروزگاری میں اضافہ ہوا تو بدامنی میں اضافہ ہر صورت ہوگی انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ باڈری کاروبار کو فوری طور پر قانونی حیثیت دیکر ایسے اقدامات اٹھائیں جائیں جس سے ملک اور عوام دونوں کا فائدہ ہوں۔
باڈر ٹریڈ کو قانونی شکل دی جائے تو معاشی طور پر ملک کو اربوں کا فائدہ ہوسکتا ہے،میر غلام دستگیر بادینی

ٹیگز:
غلام دستگیر بادینی
