کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا کہ سرمایہ کے بڑھتے ہوئے کردار سے ہمارا معاشرہ لالچ اور خودغرضی کے دلدل میں پھنس چکا ہے، پیسہ پرستی اتنی سرایت کر گئی کہ لوگ پیسے کے لالچ میں حرام اور حلال، روا اور ناروا کا تمیز کرنا بھی بھول گئے ہیں. سردست ہماری تمام شاندار اقدار اور روایات بیاثر ہو کر رہ گئی ہیں. علاوہ ازیں وہ اِکا دکا شخصیات جو سماجی رشتے برقرار رکھنے اور ابھرتے ہوئے نوجوانوں کی فکری رہنمائی کرنے اور قومی احساس اجاگر کرنے میں موثر کردار ادا کرتی تھیں وہ بھی ناپید ہوتی جا رہی ہیں. گورنر بلوچستان نے کہا کہ انفرادیت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ہر پڑھا لکھا شخص بھی قومی یا دیگر اجتماعی مفادات کی بجائے ذاتی مفاد اور غرض کو ترجیح دیتا ہے. دکھ اس بات کا ہے کہ نفسانفسی کے اس دور میں اکثر بڑے رتبون اور عہدوں کے حامل افراد بھی حرص اور لالچ کا شکار ہو کر اپنے ذاتی مفاد کے حصول کیلئے ملک اور قوم کے مفاد کو داو پر لگانے سے گریز نہیں کرتے. سستی شہرت اور خودنمائی ہمارے ہاں پہلے بھی موجود تھی لیکن سوشل میڈیا کے ریل پیل نے اسے انتہا کو پہنچا دیا. گورنر بلوچستان نے کہا کہ ہمارے سیاسی اکابرین نے معاشرے کے خدمت خلق اور اجتماعی معاملات میں نہ صرف ہمیشہ دلچسپی لی بلکہ مسقبل کے قومی مفادات کے تحفظ اور عوامی خودمختاری کی خاطر اپنا آرام، آسائش، سرمایہ اور حتی کہ اپنی جان قربان کرنے سے بھی گریز. نہیں کیا. آج انہیں قداور اور دیدہ ور شخصیات کے بلند افکار، خدمت خلق کا جذبہ اور قابل تقلید طرز حیات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں اور اب بھی ہم ان کے نقش قدم پر چل کر معاشرے میں سدھار پیدا کر سکتے ہیں
پیسہ پرستی اتنی سرایت کر گئی کہ لوگ پیسے کے لالچ میں حرام اور حلال کا تمیز کرنا بھول گئے ہیں، ملک عبدالولی خان کاکڑ

ٹیگز:
ملک عبدالولی خان کاکڑ
