کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن جنوبی پشتونخوا زون کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع قلعہ عبداللہ تحصیل دوبندی توبہ اچکزئی میں مختلف سکولوں کی بندش اور اساتذہ کی غیر حاضری کے باعث ہزاروں طلباء وطالبات کا تعلیمی مستقبل تباہ ہورہا ہے، موجودہ حکومت کی علم دشمنی پر مبنی اقدامات کا سلسلہ تھم نہ سکا، پہلے پہل درسی کتب کی مئی میں فراہمی اور اب اساتذہ غیر حاضراورسکولوں کو غیر فعال بناکر ہزاروں بچوں وبچیوں کو تعلیم کے زیور سے محروم رکھا جارہا ہے جس کی پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ اس علم دشمنی پر مبنی اقدام کے خلاف احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع قلعہ عبداللہ بالخصوص تحصیل دوبندی توبہ اچکزئی کے مختلف سکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، پرائمری، مڈل، ہائی سکول جدید سائنسی لیبارٹریز دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، مقامی اساتذہ ہونے کے باوجود ان کی غیر حاضری سمجھ سے بالاتر ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی سال کے آغاز کو دومہینے سے زائد ہوچکے ہیں لیکن درس وتدریس کا سلسلہ اب تک شروع نہیں ہوسکا۔ ضلعی محکمہ تعلیم کے آفیسران نے بھی اس پر خاموشی اختیارکر رکھی ہے جو کہ قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ توبہ اچکزئی کے تمام بند وغیر فعال سکولوں کو فعال کرکے ان میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بناکر درس وتدریس کا سلسلہ فوری طور پر شروع کیا جائے اور ساتھ ہی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
قلعہ عبداللہ میں سکولوں کو غیر فعال بناکر ہزاروں بچوں وبچیوں کو تعلیم کے زیور سے محروم رکھا جارہا ہے ، پشتونخوا سٹوڈنٹس

ٹیگز:
پشتونخوا سٹوڈنٹس
